الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 117

ضمیمه حقيقة الوحي الاستفتاء والعاقل لا يعرض عن مجرّباته عقلمند وہ ہے جو تجربات سے اعراض نہیں کرتا۔اور وإن الله يوافي دروب الحكمة الله حکمت کی راہوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔اور ويرحم عباده ويعصمهم من أبواب اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے۔اور انہیں ضلالت کے الضلالة۔ولا شك أن حياة عيسى دروازوں سے بچاتا ہے۔اور بلاشبہ عیسی کی زندگی اور وعقيدة نزولـه باب من أبواب اس کے نزول کا عقیدہ گم راہ کن کے دروازوں میں الإضلال، ولا يتوقع منه إلَّا أنواع سے ایک دروازہ ہے۔اور انواع واقسام کے وبال کے سوا اس سے کوئی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔اور اللہ کے الوبال۔ولله في أفعاله حكم لا افعال میں ایسی حکمتیں ہوتی ہیں۔جنہیں تم نہیں تعرفونها، ومصالح لا تمسونها۔جانتے۔اور ایسی مصلحتیں ہوتی ہیں جن کو تم چھو بھی ،ففگروا، رحمكم الله۔۔إن عقيدة نہیں سکتے۔اللہ تم پر رحم کرے سوچو تو کہ حیات مسیح کا حياة عيسى كما تصرّون عليه إلى عقیدہ جیسا کہ اب تک تم اُس پر اصرار کر رہے هذا الآن، ثم عقيدة نزوله في ہو۔پھر زمانے کے آخر میں ان کے نزول کا عقیدہ آخر الزمان، أمر ما أفادكم مثقال ایسا امر ہے جس نے تمہیں ذرہ بھر فائدہ نہیں پہنچایا۔ذرّة، وما أيد ديننا الذي هو خير اور نہ اس نے ہمارے اس دین کی تائید کی ہے جو الأديان، بل أيد دين النصارى سب دینوں سے بہتر ہے بلکہ عیسائی مذہب کی تائید وأدخل أفواجا من المسلمين في کی ہے۔اور فوج در فوج مسلمانوں کو صلیبی مذہب أهل الصلبان۔فلا أدرى أتى میں داخل کیا ہے۔اے مسلمانوں کے گروہ! مجھے حاجة أحسستم لنزوله يا معشر معلوم نہیں کہ تم نے اس کے نزول کی کیا ضرورت المسلمين؟ وإن حياته يضركم محسوس کی ، اور اُس کی حیات تمہیں نقصان پہنچاتی ولا ينفعكم۔أما رأيتم ضررًا فيما بے فائدہ نہیں۔کیا تمہیں گزشتہ سالوں میں اس کا ہے مضى من السنين؟ أنفعتكم نقصان نظر نہیں آیا۔کیا گزرے ہوئے زمانے هذه العقيدة فيما مر من الزمان؟ میں اس عقیدے نے تمہیں کوئی فائدہ پہنچایا ؟