الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 9
ضميمه حقيقة الوحي ۹ الاستفتاء ولم يكن في ذالك الوقت أثر من اس وقت ان خبروں کے نتائج کا نام ونشان تو نتائجها وما عثر على وقوعها أحد در کنار کوئی اہل الرائے ان کے وقوع پذیر ہونے کو من أهل الآراء ، بل كان كل رجل ناممکن سمجھتا تھا، بلکہ ہر شخص ان پر ہنسی اڑاتا اور انہیں يستبعد وقوعها، ويضحك عليها، افتراء اور من گھڑت خیال کرتا اور بتقاضائے ويحسبها افتراء، أو من قبيل حديث خواہشات نفسانی انہیں حدیث النفس کی قبیل سے النفس بمقتضى الأهواء، أو من تصور کرتا یا انہیں حضرت الکبریاء کی طرف سے نہیں وساوس الشيطان لا من حضرة بلكہ شیطانی وساوس سے خیال کرتا تھا۔ جب کہ یہ الكبرياء۔ وإن هذه الأنباء مرقومة سب خبریں براہین احمدیہ کے متفرق مقامات میں في البراهين الأحمدية، ومندرجة درج شدہ ہیں۔ جو اس عاجز کی اردو تصانیف میں سے في مواضعها المتفرقة، التي هي ہے اور جس شخص کو ان خبروں کے متعلق کوئی شک و شبہ من تصانيف هذا العبد في اللسان ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس کتاب ( براہین احمدیہ ) الهندية، ومن شكّ فيها فليرجع کی طرف رجوع کرے اور اسے صحت نیت کے إلى ذالك الكتاب، وليقرأها ساتھ پڑھے اور خوف خدا کرے اور ان خبروں کی بصحة النية، وليتق الله، وليفكّر عظمت اور ان کی جلالت شان اور ان کے دلائل کی في عظمة هذه الأخبار، وجلالة رفعت پر غور کرے اور اس زمانہ پر بھی کہ کتنی دیر پہلے شأنها وعلو برهانها، وبعدها عن یہ شائع کی گئیں اور ) ان کی تابانی اور چمک دمک هذا الزمان، وبريقها ولمعانها پر غور کرے۔ کیا کسی شخص کو یہ قدرت حاصل ہے کہ وهل لأحد قوة أن ينبئ كمثلها وہ تمام اشیاء کے جاننے والے خدا سے علم حاصل کئے من دون اعلام عالم الأشياء ؟ بغیر ایسی خبریں دے سکے۔ یہ بہت سی خبریں ہیں وإنها أنباء كثيرة، منها ذكرنا جن میں سے بعض کا ہم نے ذکر کیا ہے اور بعض کا ومنها لم نذكر، وكفى هذا القدر ذکر نہیں کیا ۔ اور اس قدر پیش گوئیاں ان تقومی شعار للأتقياء، الذين يخافون الله و لوگوں کے لئے کافی ہیں جو اللہ سے ڈرتے إذا وجدوا حقا وجلت قلوبهم جب وہ حق کو پا جائیں تو ان کے دل لرز جاتے ہیں 2 ہیں اور