الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 116
ضمیمه حقيقة الوحي ١١٦ الاستفتاء ثم أى حاجة اشتدت لرفعه إلى تو پھر اس کے بلند آسمانوں کی طرف اٹھائے جانے کی السَّماوات الـعُـلـى؟ أَأَرْهَقَتُه کون کی اشد ضرورت آن پڑی تھی۔کیا زمین اس پر الأرض بضيقها ، أو ما بقى مفر تنگ پڑ گئی تھی یا یہودیوں کے ہاتھوں سے بچنے کے من أيدى اليهود فيها، فرفع إلى لئے اس کے لئے زمین میں کوئی جائے مفر نہ رہا السماء ليُخفى؟ تھا کہ اسے چھپانے کے لئے آسمان پر اٹھایا گیا ؟ أيُّها النّاس۔۔لا تجاوزوا حدود اے لوگو! سیدھی راہ کی حدود سے تجاوز نہ کرو اور النهج القويم، وزنوا بالقسطاس سیدھی ڈنڈی سے تو لو۔اور اللہ کی قسم ! اسلام کی زندگی المستقيم۔ووالله، إن موت عیسی کے لئے عیسی کی موت اس کی زندگی سے بہتر ہے۔خير للإسلام من حياته، وكلّ فتح اور دین اسلام کی تمام تر فتح اس کی موت میں ہے۔الدين في مماته۔أتستبدلون الذى كيا تم خیر کو شر سے بدلنا چاہتے ہو۔اور نفع و نقصان هو شر بالذى هو خير، ولا تفرقون کے درمیان فرق نہیں کرتے۔اور اللہ کی قسم ! اس بين النفع والضير؟ ووالله لن يجتمع دين (اسلام ) کی زندگی اور ابن مریم کی زندگی حياة هذا الدين وحياة ابن مریم ہرگز اکٹھے نہیں ہو سکتے تم دیکھ چکے ہو کہ ان کی وقد رأيتم ما عَمَّرَ حياته إلى هذا حيات نے اب تک کیا تعمیر اور کیا تخریب کی اور تم دیکھ الوقت وما هدّم، وترون كيف رہے ہو کہ ان کی حیات نے نصاری کی کیسی مدد کی نصر النصاری حیاتہ ،وقدم اور انہیں آگے بڑھایا اور دین قیم کو مجروح کیا۔وجرح الدين الأقوم۔ولما ثبت جب اس (حیات مسیح ) کا نقصان بالکل ہمارے ضيره فيما بين يدينا، فكيف يُتوقع سامنے ثابت ہو چکا ہے تو پھر ہمارے بعد کے زمانہ خيره فيما خَلْفَنا؟ وإذا جربنا إلى میں اس سے خیر کی کیونکر توقع کی جاسکتی ہے۔طول الزمان مضرات حیاتہ، اور جب ہم نے ایک طویل مدت تک ان کی فأى خير يرجى من هذه العقيدة حیات کے نقصانات کا تجربہ کر لیا ہے تو اس کے بعد ذالک مع ثبوت معراته؟ بعد اس عقیدہ سے کس خیر کی توقع کی جاسکتی ہے۔