الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 115
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۱۵ الاستفتاء ☆ يرفعون عيسى مع جسمه إلى السماء، وہ عیسی کو جسم سمیت آسمان پر اٹھاتے ہیں اور اللہ ولا يتدبرون قوله تعالى : قُل کے فرمان قل سبحان ربی پر غور نہیں کرتے سبحان ري بل يزيدون فی بلکہ وہ بغض اور کینہ میں بڑھتے چلے جارہے ہیں۔البغض والشحناء۔يا فتيان أين أنتم اے جوانو! تم ان آیات (مذکورہ) کے مقابل کہاں من تلك الآيات، ولم تتبعون ما کھڑے ہو اور تم مشتبہ بات کی پیروی کیوں کرتے تشابه من القول وتتركون البينات ہو۔اور جو محکم نشانات ہیں انہیں چھوڑ رہے ہو۔المحكمات؟ ألا تعلمون أن الكفار کیا تم نہیں جانتے کہ کافروں نے اس آیت (قــل طلبوا في هذه الآية معجزة الصعود سبحان ربی ) میں ہمارے نبی ﷺ جو خیر الانبیاء إلى السماء ، من نبينا خير الأنبياء افضل الاصفیاء ہیں سے آسمان پر چڑھنے کے معجزہ وزبدة الأصفياء، فأجابهم الله أن رفع کا مطالبہ کیا تھا۔جس کا اللہ نے انہیں یہ جواب دیا بشر مع جسمه ليس من عادته، بل تھا کہ کسی بشر کا آسمان کی طرف اپنے جسم سمیت هو خلاف مواعيده وسنته ولو رفع اللہ کی سنت نہیں۔بلکہ یہ اس کے وعدوں اور فرض أن عيسى رفع مع جسمه اس کے طریق کے خلاف ہے۔اگر بالفرض عیسی إلى السماء الثانية، فما معنى هذا اپنے جسم سمیت دوسرے آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔المنع في هذه الآية؟ ألم يكن تو اس آیت میں اس ممانعت کے کیا معنیٰ ہوں عيسى بشرًا عند حضرة العزة؟ گے؟ کیا عیسی ربّ العزت کے نزدیک بشر نہ تھا؟ أعنى آية: قُلْ سُبْحَانَ رَى هَلَ كُنتُ م میری مراد قل سبحان ربي هل كنت الا بشرا إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا فلا شك أن هذه الآية رَّسُولا کی آیت ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ آیت کسی بشر دليل واضح عـلـى امتناع صعود بشر إلی کے جسم عصری سمیت آسمان پر چڑھنے کے امتناع پر ایک واضح دلیل السماء مع جسمه العنصري، ولا ينكره إلا ہے اور صرف جاہل ہی اس کا انکار کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فرمان الجاهلون۔وفي قوله تعالى سُبْحَانَ رَتی إشارة إلى آية: فِيهَا تَحْيَونَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ سبحان ربی میں آیت فيها تحيون وفيها تموتون كى طرف فإن رفع بشر إلى السماء أمر ينقض هذا اشارہ ہے۔کیونکہ کسی بشر کا آسمان کی طرف رفع ایسا امر ہے جو اس العهد، فسبحانه وتعالى عما ينقض عهده، عہد کو توڑتا ہے اور اللہ کی ذات اس سے پاک ہے۔کہ وہ اپنا عہد توڑے۔پس اے عقل مند و ! غور کرو۔منہ ففكروا أيها العاقلون۔منه ا بنی اسرائیل: ۹۴ الاعراف: ۲۶