الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 114
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۱۴ الاستفتاء وأى شيءٍ خیالاتُ أُناس ظهروا اور ان لوگوں کے خیالات کی کیا حیثیت جو صحابہ کے بعد الصحابة بل بعد القرون بعد ظاہر ہوئے ، بلکہ تین صدیوں کے بعد۔ان کا الثلاثة ؟ وما كان حقهم أن کوئی حق نہ تھا کہ وہ اللہ کی دی ہوئی خبروں کی ان يُؤَوّلوا أنباء الله قبل وقوعها، بل کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی تاویل کرنے لگیں كان من حسن الأدب أن يفوّضوا بلكه حسن ادب کا تقاضا تھا کہ وہ ان (خبروں) کے إلى الله مجاری ینبوعها، چشموں کے رستوں کا معاملہ اللہ کے سپرد کر و کذالک كانت سيرة كبراء دیتے۔اور اکابرین امت کی سیرت یہی رہی الأمة۔إنّهم كانوا لا يصرون على ہے۔کہ وہ اخبار غیبیہ کو بیان کرتے وقت کسی ایک معنى عند بيان الأنباء الغيبية، بل معنى پر اصرار نہیں کرتے تھے۔بلکہ وہ اُن پر ایمان كانوا يؤمنون بها ويفوّضون لاتے تھے۔اور ان کی تفاصیل کو حقیقت کا علم رکھنے والے (خدا) کے سپر د کر دیتے تھے۔اور یہی طریق اہل تقویٰ اور دانشمندوں کے نزدیک محتاط طریق ہے۔تفاصيلها إلى عالم الحقيقة۔وهذا هو المذهب الأحوط عند أهل التقوى وأهل الفطنة۔ثم پھر ان کے بعد ایسے جانشین ہوئے جنہوں نے اپنے خلف من بعدهم خلف جاوزوا حد علمهم وحد المعرفة علم و معرفت کی حدود سے تجاوز کیا اور جولا تقف ونسوا ما قيل : لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ ماليس لک به علم فرمایا گیا ہے یعنی جس چیز کا لَكَ بِهِ عِلْمٌ وطفَروا فی کلّ تجھے علم نہیں اس کی پیروی نہ کر۔کو بھول گئے۔اور موطن طَفْرَ البقة، وأصروا على ہر جگہ پسوؤں کی طرح اچھلے کو دے اور ایسے امر پر أمر ما أحاطوه حق الإحاطة۔يا اصرار کیا جس کا انہوں نے پوری طرح احاطہ حسرات عليهم وعلى جرأتهم ! نہ کیا تھا۔وائے افسوس! ان پر اور ان کی جرأت پر قد أصابت الملة منهم صدمة هى كه ملت اسلامیہ ) کوان سے ایسا صدمہ پہنچا ہے جو أخت صدمة النصرانية، وما هم عیسائیت کی طرف سے پہنچنے والے صدمہ کی بہن إلَّا كجذب لسنوات الـمـلة ہے۔اور ملت کے لئے محض قحط سالیوں کی مانند ہیں۔بنی اسرائیل : ۳۷