الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 113

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۱۳ الاستفتاء فما تشابه الأمر عليكم إلا من یہ معاملہ تم پر صرف آزمائش کی وجہ سے مشتبہ رہا کہ فتنة أراد الله ليبتليكم بها، فأظهرها اللہ اس کے ذریعہ تمہارا امتحان لے۔پس اس نے بعد هذا الإخفاء۔اس اخفا کے بعد اسے ظاہر فرما دیا۔وأى ذنب أكبر من ذالك أن اس سے بڑھ کر اور گناہ کیا ہوسکتا ہے کہ قرآن الله يخبر في القرآن بموت کریم میں اللہ عیسی کی وفات کی خبر دیتا ہے اور اس بات کی بھی خبر دیتا ہے کہ قیامت کے دن عیسی اپنی عيسى ويخبر بأن عيسى يقرّ يوم امت کے کفر اور اس کے بارہ میں علم نہ ہونے القيامة بموته قبل كُفر أمته وعدم سے قبل اپنی موت کا اقرار کریں گے جیسا پہلے الله بیان ہو چکا ہے اور (ہمارے نبی علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے معراج کی رات وفات یافتہ الموتى عند يحيى، ثم أنتم لوگوں میں بیٹی کے پاس دیکھا، پھر بھی تم اسے جسم علمه به کما مضى، والنبي يقول إني رأيته ليلـة الـمـعـراج في ترفعونه مع الجسم إلى السماء ؟ کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھاتے ہو۔ہم نے اس فما رأينا أعجب من هذا۔فما سے عجیب تر کوئی بات نہیں دیکھی۔تم کیوں بات لكم لا تفقهون حديثا ؟ وإن قولی نہیں سمجھتے۔میرا قول قول فیصل ہے۔پس اس قول فيصل، فلن تجدوا عنه سے تم ہرگز فرار نہ پاسکو گے۔تم اس (مسیح) کی محـيـصـا۔تصرون على حياته، زندگی پر اصرار کرتے ہو لیکن اس پر کوئی دلیل پیش ولا تـؤتـــون عـلیـه دلیلا نہیں کرتے۔اور اللہ سے بڑھ کر کون سچی بات وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيْلًا ؟ کہہ سکتا ہے۔وليس جوابكم من أن تقولوا اور اس کے سوا تمہارا جواب کوئی نہیں کہ تم کہو کہ إن آباء نا كانوا على هذا الاعتقاد، وإن كان آباؤ کم ہمارے آباء واجداد اسی عقیدہ پر تھے اگر چہ تمہارے عدلوا عن طريق السداد۔آباء واجداد سیدھی راہ سے ہٹے ہوئے ہوں۔ا النساء : ١٢٣