الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 112
ضميمه حقيقة الوحي ۱۱۲ الاستفتاء فزاغت قلوبكم، وما فكرتم حق پس تمہارے دل ٹیڑھے ہو گئے اور تم نے ویسا نہ الفكرة ۔ وقد جئتكم بالآیات سوچا جو سوچنے کا حق ہوتا ہے۔ اور میں تمہارے والشواهد والبينات، وقد فتح پاس نشانات ، شواہد اور کھلے دلائل لے کر آیا اور الله على أمرًا أخفاه عليكم في اللہ نے وہ امر مجھ پر کھول دیا جو ابن مریم کے بارہ میں اس نے تم پر مخفی رکھا ہوا تھا۔ اور یہ اُس خدا کا ابن مريم، وذالك فـضـلـه أنـه فضل ہے کہ اُس نے مجھے وہ بات سمجھا دی جس فهمنى أمرًا ما أعثر كم عليه وما فهم۔ أم حسبتم أن أصحاب الكهف والرقيم كانوا من آياتنا عجبًا إن الله أخفانا من أعينكم إلى قرون، وأَسْبَلَ عليها حجبا، سے اُس نے نہ تو تمہیں آگاہ کیا اور نہ ہی تمہیں سمجھایا۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ غار والے اور کتبوں والے ہمارے عجیب نشانوں میں سے تھے تھے ۔ اللہ اللہ نے صدیوں تک ہمیں تمہاری آنکھوں سے چھپائے رکھا اور ان پر پر دے ڈالے رکھے۔ پس تم فكنتم تنتظرون نزول المسيح من آسمان سے مسیح کے نازل ہونے کا انتظار کرتے السماء ، وصرف الله أفكاركم رہے اور اللہ نے تمہاری فکروں اور سوچوں کو اس عن الحقيقة الغراء، ليظهر درخشنده حقیقت سے ہٹائے رکھا تا کہ وہ تم پر یہ علیکم عجز كم فى أسرار حضرة ظاہر کر دے کہ تم حضرت کبریا کے اسرار ورموز الكبرياء ۔ ذالك من سنن الله سمجھنے۔ سے عاجز ہو اور یہ اللہ کی سنت ہے تا کہ وہ ليعلمكم أدبًا عند إظهار الآراء تمہیں آراء کے اظہار کے وقت آداب سکھائے۔ هذا ما أوحى إلى ربى بوحى القرآن، یہ وہ وحی ہے جو میرے رب نے قرآنی الفاظ میں مجھے کی ۔ اور وكذالك أخفاني ربي كما أخفى أصحاب اس طرح میرے رب نے مجھے اسی طرح مخفی رکھا جس طرح اس نے الكهف، وإن ذالك من سنن الا الله أنه يخفى اصحاب کہف کو مخفی رکھا تھ کو مخفی رکھا تھا اور یہ سنن الٰہی میں ۔ نہی میں سے ہے کہ وہ اپنے بعض بعض أسراره من أعين الناس ليعلموا أن اسرار لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھتا ہے تا کہ انہیں یہ معلوم ہو کہ ان علمهم قاصر، وليبتلى الله عباده، ولیری کا علم محدود ہے اور تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمائے اور ان میں سے مومنوں اور مجرموں کے فرق کو دکھا دے۔ منہ المؤمنين منهم والمجرمين۔ منه