الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 111

ضمیمه حقيقة الوحي الاستفتاء ثم أشعتموه في الأغيار والأحباب، پھر تم نے اس کی غیروں اور دوستوں میں اشاعت کانکم مبرؤون من المؤاخذة کی۔گویا تم مؤاخذہ اور حساب سے بری ہولیکن والحساب۔ولكن الله أتم نورا اللہ نے اُس نور کو مکمل کیا جسے تم بجھانا چاہتے تھے أردتم إطفاء ه، وملأ بحرا تمنيتم اور اس سمندر کو بھر دیا جس کے پانی خشک ہونے کی دیا أن تغيض ماؤه، و دعوتم لنا أرضًا تم امید کرتے تھے۔اور تم نے ہمارے لئے قحط زدہ جدبة، فآوانا الله إلى ربوة زمین کی دعا دی لیکن اللہ نے ہمیں ربوہ اور سر وواد خضر وروضة، ورزقنا سبز و شاداب وادی اور باغ میں پناہ دی۔اور ہمیں نعماءً ا و آلانا وبركات ما وہ وہ نعمتیں، احسانات اور برکات عطا کیں جنہیں رأيتموها ولا آباؤكم۔أهذا جزاء نہ تم نے اور نہ ہی تمہارے آباء واجداد نے دیکھا الفرية؟ أأعشـر تــم على مثله في تھا۔کیا یہ افتراء کا صلہ ہے؟ کیا تم نے کسی زمانے زمان من الأزمنة؟ میں بھی ایسا ہونے کی اطلاع پائی ہے؟ فاعلموا، رحمكم الله، أن صدق اللہ تم پر رحم فرمائے۔تمہیں معلوم ہو کہ میرے دعوای وموت عيسى ما كان أمرًا دعوی کی صداقت اور عیسی کی وفات کوئی ایسا متعسر المعرفة، ولكن طوّعَتْ امر نہیں تھا جسے سمجھنا مشکل ہو لیکن تمہارے ۴۶ لكم أنفسكم تكذيب إمامكم نفس نے تمہیں اپنے امام کی تکذیب پر ابھارا۔و مَعِين ولما جعلني الله مثيل عيسى قد قال الله عزّوجلّ في القرآن: الله عزّوجل نے و آویـنـاهـمـا الـى ربوة ذات قرار وَأَوَيْنُهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ ومعين ( اور ان دونوں کو ہم نے ایک مرتفع مقام کی طرف پناہ دی جو پُر امن اور چشموں والا تھا) کے الفاظ قرآن کریم میں ارشاد فرمائے ہیں اور جب اللہ نے مجھے مثیل عیسی بنایا تو اس نے سلطنت جعل لي السلطنة البرطانية ربوة أمنٍ وراحة برطانیہ کو میرے لئے امن و راحت کار بوہ اور اچھا ٹھکانہ بنا دیا۔پس ومستـقـا حسـنـا۔فـالـحـمـد للـه مـأوى سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو مظلوموں کی پناہ گاہ ہے اور تمام المظلومين ولله الحكم والمصالح، ما حکمتیں اور مصلحتیں اللہ کے لئے ہیں۔کسی کی کیا مجال کہ وہ ایسے۔كان لأحد أن يؤذى من عصمه الله، والله شخص کو اذیت دے سکے جسے اللہ بچائے اور اللہ ہی سب سے بہتر ، خير العاصمين۔منه ل المؤمنون: ۵۱ حفاظت فرمانے والا ہے۔منہ