الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 111
ضميمه حقيقة الوحي الاستفتاء ثم أشعتموه في الأغيار والأحباب پھر تم نے اس کی غیروں اور دوستوں میں اشاعت كانكم مبرؤون من المؤاخذة کی۔ گویا تم مؤاخذہ اور حساب سے بری ہو لیکن والحساب۔ ولكن الله أتم نورا اللہ نے اُس نور کو مکمل کیا جسے تم بجھانا چاہتے تھے أردتم إطفاء ه، وملأ بحرا تمنيتم اور اس سمندر کو بھر دیا جس کے پانی خشک ہونے کی أن تغيض ماؤه، ودعوتم لنا أرضًا تم امید کرتے تھے۔ اور تم نے ہمارے لئے قحط زدہ جدبة، فآوانا الله إلى ربوہ ربوة زمین کی دعا دی لیکن اللہ نے ہمیں ربوہ ﷺ اور سر وواد خضر وروضة، ورزقنا سبز و شاداب وادی اور باغ میں پناہ دی ۔ اور ہمیں نعماء ا وآلانـا وبـركـات مـا وہ وہ نعمتیں، احسانات اور برکات عطا کیں جنہیں رأيتموها ولا آباؤكم أهذا جزاء نہ تم نے اور نہ ہی تمہارے آباء واجداد نے دیکھا الفرية؟ أأعثرتم على مثله فی تھا۔ کیا یہ افتراء کا صلہ ہے؟ کیا تم نے کسی زمانے زمان من الأزمنة؟ میں بھی ایسا ہونے کی اطلاع پائی ہے؟ فاعلموا، رحمكم الله، أن صدق اللہ تم پر رحم فرمائے ۔ تمہیں معلوم ہو کہ میرے دعوای وموت عيسى ما كان أمرًا دعوى کی صداقت اور عیسٰی کی وفات کوئی ایسا متعسر المعرفة، ولكن طوّعت امر نہیں تھا جسے سمجھنا مشکل ہو لیکن تمہارے ﴿۴۶﴾ لكم أنفسكم تكذيب إمامكم نفس نے تمہیں اپنے امام کی تکذیب پر ابھارا۔ قد قال الله عز وجل في القرآن : الله عز وجل نے و آوینا هما الى ربوة ذات قرار وَأَوَيْنُهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ و معین (اور ان دونوں کو ہم نے ایک مرتفع مقام کی طرف پناہ دی جو پُر امن اور چشموں والا تھا) کے الفاظ قرآن کریم میں ارشاد وَ مَعِينٍ ، ولما جعلني الله مثيل عيسى فرمائے ہیں اور جب اللہ نے مجھے مثیل عیسیٰ بنایا تو اس نے سلطنت جعل لي السلطنة البرطانية ربوة أمن وراحة برطانیہ کو میرے لئے امن و راحت کاربوہ اور اچھا ٹھکانہ بنا دیا۔ پس ومستقرا حسنًا۔ فالحمد لله مأوى سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو مظلوموں کی پناہ گاہ ہے اور تمام المظلومين۔ ولله الحكم والمصالح، ما حکمتیں اور مصلحتیں اللہ کے لئے ہیں۔ کسی کی کیا مجال کہ وہ ایسے كان لأحد أن يؤذى من عصمه الله، والله شخص کو اذیت دے سکے جسے اللہ بچائے اور اللہ ہی سب سے بہتر خير العاصمين۔ منه ا المؤمنون : ۵۱ حفاظت فرمانے والا ہے ۔ منہ