الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 110

ضميمه حقيقة الوحي ١١٠ الاستفتاء وتختارون ما يضركم، وتعرضون اور اسے اختیار کرتے ہو جو تمہارے لئے نقصان دہ عما ينفعكم، وتجاوزون الحدود ؟ ہے۔ اور تم اس سے اعراض کرتے ہو جو تمہیں نفع ألم ينهكم الله أن تحرّفوا معنى یعنی پہنچاتا ہے اور حدود سے تجاوز کرتے ہو۔ کیا اللہ القرآن، ولا تتبعوا سبل الشيطان؟ نے تمہیں قرآن کے معنی میں تحریف کرنے سے منع ووالله ثم والله، ما صرفكم عن نہیں فرمایا اور کیا یہ نہیں کہا تم شیطان کی راہوں کی الحق إلا التعصب والعناد اتباع نہ کرو؟ اور اللہ کی قسم ! ہاں اللہ کی قسم !! وحسبتم الفساد الكبير كأن فيه تمہیں صرف اور صرف تعصب اور عناد نے حق سے رفع الفساد۔ وتقولون لي: أنت ہٹایا ہے اور تم نے فساد کبیر کو یوں سمجھا ہے کہ گویا اسی كفرت أهل القبلة، وخالفت قول سے فساد رفع ہو گا۔ اور تم مجھے کہتے ہو کہ تو نے اہل خير البرية۔ يا سبحان الله! كيف قبلہ کی تکفیر اور خیر البریہ ﷺ کے قول کی مخالفت کی نسيتم فتاواكم بهذه العجلة؟ وما ابتدرنــا بــالـتـكـفـيــر وما بدأنا بالتحقير۔ أما أشعتم كفرنا في هذه الديار وفي الآفاق وفي السكك والأسواق؟ أنسيتم قرطاس الإفتاء ہے۔ واہ سبحان اللہ ! تم جلدی میں اپنے فتووں کو کیسے بھول گئے ۔ جبکہ ہم نے نہ تو کبھی تکفیر میں جلدی کی اور نہ تحقیر میں پہل کی ۔ کیا تم نے اس ملک اور اس کے آفاق اور گلی کوچوں اور بازاروں میں ہمیں کافر ٹھہرانے کی اشاعت نہیں کی؟ کیا تم وما قلتم وما تقولون بترك الحياء ؟ وج وجاهدتم كل الجهد فتووں کے پرچہ کو اور وہ جو تم کمال بے حیائی سے کہہ لتنقضوا ما عقدنا، ولتبطلوا ما چکے ہو اور کہہ رہے ہو بھول گئے ہو؟ اور تم نے پوری أردنا، وکذالک مکرتم کل کوشش کی کہ ہمارے عقیدہ کو توڑ دو اور ہمارے ارادہ المكر إلى عشرين حجّةً بل أزيد کو باطل کردو اور اسی طرح تم نے ہیں بلکہ میں سال من ذالك عدة، وأثرتم من كل سے بھی زیادہ عرصہ سے، ہر قسم کے منصوبے باندھے نوع فتنة، وقلتم كل ما أردتم اور ہر نوع کے فتنے اختیار کئے اور میری ذات کے في شأني من السب والشتم متعلق گالی گلوچ میں سے تم نے جو چاہا کہہ دیا۔