الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 109
۔۴۵ ضمیمه حقيقة الوحي ۱۰۹ الاستفتاء وتكذب أمام وجهی عند اور میرے سوال کرنے پر میرے رو برو جھوٹ بولتا سؤالي؟ ألستَ ذهبت إلى الدنیا ہے۔کیا تو اپنی واپسی کے وقت دنیا میں نہیں گیا تھا عند رجعتک، و أعثرت علی اور کیا تو اپنی امت کے شرک سے آگاہ نہیں ہے۔شرك أمتك؟ ألم تر الذین کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے تجھے اتخذوك إلها انتشروا في جميع معبود بنا لیا وہ تمام ممالک میں پھیل گئے اور عمدہ البلاد، ونسلوا من كل حدب گھوڑوں کی طرح ہر بلندی سے دوڑے چلے آئے كالجياد، وأنت حاربتهم وكسرت اور تو نے ان سے جنگ کی ہے اور اپنی کوشش اور صليبهم بجهدک و طاقتک، ثم طاقت سے ان کی صلیب توڑی ہے۔پھر اب تو تنكر الآن من نزولک، فأعجبنی اپنے نزول سے انکار کر رہا ہے۔پس تیرے کذب کذبک و فریتک۔اور افترا نے مجھے حیران کر دیا ہے۔فخلاصة الكلام أن قولكم برفع پس خلاصہ کلام یہ کہ تمہارا رفع عیسی کے بارہ میں عيسى باطل، ومضر للدين كأنه قاتل قول باطل اور دین کے لئے مضر ہے گویا یہ (دین وتقولون: لفظ الرفع فی القرآن کا قاتل ہے۔اور تم کہتے ہو کہ دفع کا لفظ موجود نعم، موجود، ولكن معناه قرآن میں موجود ہے۔ہاں موجود تو ہے لیکن اس من لفظ مُتَوَفِّيكَ مشهود بل کے معنی متوفیک کے لفظ سے مشہور ہیں بلکہ جميع كلم الآية على الرفع الروحاني آیت کے تمام کلمات رفع روحانی پر شاہد ہیں۔کیا شهود۔أتؤمنون ببعض الكتاب تم کتاب کے کچھ حصہ پر ایمان لاتے ہو اور کچھ کا وتكفرون ببعض ؟ أهذا إسلامكم أو انکار کرتے ہو۔کیا یہ تمہارا اسلام ہے یا کفر اور عناد؟ كفر وعنود؟أو تريدون أن تحرّفوا كتاب الله كما حرف اليهود ؟ ألا ياتم اللہ کی کتاب کو یہودیوں کی طرح بدلنا چاہتے ترون أن لفظ مُتَوَفِّيكَ مقدم ہو۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ متوفیک کا لفظ رفع على لفظ الرفع وفی القرآن موجود؟ کے لفظ سے پہلے آیا ہے اور قرآن میں موجود ہے۔فما لكم تتركون رعاية الترتيب، پھر کیا وجہ ہے کہ تم رعایت ترتیب کو چھوڑتے ہو