الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 108

ضميمه حقيقة الوحي ۱۰۸ الاستفتاء ☆ بل هو من حلل الرسالة والإمامة جيسا كہ يہ ابرار کا طریق بلکہ رسالت و امامت کالباس فكيف يُظن أنه يختار الكذب ہے۔ پھر یہ کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ آپ جھوٹ ويرتكب جُرم إخفاء الشهادة اختیار کریں اور اخفاء شہادت کے جرم کے مرتکب ہوں ويقول: يا ربّ، ما عُدت إلى الدنيا، گے اور یہ کہیں گے کہ اے میرے رب میں دنیا کی وليس لي علم بأحوال أُمتى، ولا طرف واپس نہیں گیا اور نہ مجھے میری امت کے أعلم ما صنعوا بعدى۔ فإنّ هذا حالات کا کچھ علم ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے كذب شنيع تقشعر منه الجلدة، میرے بعد کیا کیا۔ پس یہ ایسا جھوٹ ہے جس سے وتأخذ منه الرعدة ولو فرضنا جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور لرزہ طاری أنه يقول كمثل هذه الأقوال، ہو جاتا ہے ۔ اور اور اگر ا ہم فرض کر لیں کہ وہ ایسی ويُخفى متعمدا زمن عوده إلى الدنيا باتیں کہے گا اور اللہ ذوالجلال کے سوال کرنے پر دنیا عند سؤال الله ذی الجلال ويُخفی میں اپنے واپس جانے کے زمانے کو عمداً چھپائے گا حقيقة اطلاعه على كفر أُمته وإصرارهم اور اپنی امت کے کفر پر مطلع ہونے کی حقیقت اور ان على طريق الضلال، فلا شک کی گمراہی کی راہ پر مصر رہنے کو خفی رکھے گا تو بلا شک أن الله يقول له: يا عيسى، ما اللہ اس سے کہے گا کہ اے عیسی ! تجھے کیا ہو گیا ہے لك لا تخاف عزتی وجلالی کہ تو میری عزت اور میرے جلال سے نہیں ڈرتا۔ روى الإمام البخاري عن المغيرة بن امام بخاری نے مغیرہ بن نعمان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ النعمان قال، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ ( قیامت کے دن ) إنه يجاء برجال من أمتى (يعني يوم القيامة)، لائے جائیں گے اور انہیں پکڑ کر بائیں جانب لے جایا جائے گا تو میں فيؤخذ بهم ذات الشمال، فأقول : کہوں گا اے میرے رب ! یہ میرے صحابہ ہیں۔ تو کہا جائے گا کہ تو نہیں يا رب أصيحابي، فيقال: إنك لا تدرى ما جانتا کہ انہوں نے تیرے بعد کیا کچھ کیا۔ تو میں وہی کچھ کہوں گا جو ایک أحدثوا بعدك۔ فأقول كما قال العبد عبد الصالح ( یعنی عیسی ) کہے گا کہ میں ان پر نگران تھا جب تک میں ان الصالح (يعنى عيسى وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ میں رہا۔ پس جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان پر نگران شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ، وكذالك روى البخاري رہا۔ اور اسی طرح توفی کے معنی کے متعلق امام بخاری نے ابن عباس سے روایت کی ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ متوفیک کے معنی ممیتک في معنى التوفي عن ابن عباس قال: یعنی میں تجھے وفات دوں گاکے ہیں۔ منہ متوفیک ممیتک۔ منه ا المآئدة: ١١٨