الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 108
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۰۸ الاستفتاء بل هو من حلل الرسالة والإمامة جيسا كه يد ابرار کا طریق بلکہ رسالت و امامت کالباس کہ یہ فكيف يُظن أنه يختار الكذب ہے۔پھر یہ کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ آپ جھوٹ ويرتكب جُرم إخفاء الشهادة اختیار کریں اور اخفاء شہادت کے جرم کے مرتکب ہوں ويقول: يا ربّ، ما عُدتُ إلى الدنيا، گے اور یہ کہیں گے کہ اے میرے رب میں دنیا کی وليس لى علم بأحوال امتى، ولا طرف واپس نہیں گیا اور نہ مجھے میری امت کے أعلم ما صنعوا بعدى۔فإنّ هذا حالات کا کچھ علم ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے كذب شنيع تقشعر منه الجلدة، میرے بعد کیا کیا۔پس یہ ایسا جھوٹ ہے جس سے وتأخذ منه الرعدة ولو فرضنا جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور لرزہ طاری أنه يقول كمثل هذه الأقوال، ہو جاتا ہے اور اگر ہم فرض کر لیں کہ وہ ایسی ويُخفى متعمدا زمن عوده إلى الدنيا باتیں کہے گا اور اللہ ذوالجلال کے سوال کرنے پر دنیا عند سؤال الله ذی الجلال ويُخفی میں اپنے واپس جانے کے زمانے کو عمداً چھپائے گا حقيقة اطلاعه على كفر أمته وإصرارهم اور اپنی امت کے کفر پر مطلع ہونے کی حقیقت اور ان على طريق الضلال، فلا شک کی گمراہی کی راہ پر مصر رہنے کو مخفی رکھے گا تو بلا شک أن الله يقول له: يا عيسى، ما اللہ اس سے کہے گا کہ اے عیسی ! تجھے کیا ہو گیا ہے لك لا تخاف عزّتی و جلالی کہ تو میری عزت اور میرے جلال سے نہیں ڈرتا۔روى الإمام البخاري عن المغيرة بن امام بخاری نے مغیرہ بن نعمان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ النعمان قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم رسول اللہ اللہ نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ (قیامت کے دن ) إنه يجاء برجال من أمتى (يعنى يوم القيامة، لائے جائیں گے اور انہیں پکڑ کر بائیں جانب لے جایا جائے گا تو میں فيؤخذ بهم ذات الشمال، فأقول: کہوں گا اے میرے رب ! یہ میرے صحابہ ہیں۔تو کہا جائے گا کہ تو نہیں يا رب أصيحابي فيقال: إنك لا تدرى ما جانتا کہ انہوں نے تیرے بعد کیا کچھ کیا۔تو میں وہی کچھ کہوں گا جو ایک أحدثوا بعدك۔فأقول كما قال العبد عبد الصالح ( یعنی عیسی ) کہے گا کہ میں ان پر نگران تھا جب تک میں ان 6 الصالح (يعني عيسى) وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ میں رہا۔پس جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان پر نگران شهيد ا مَّا دَمتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ رہا۔اور اسی طرح توفی کے معنی کے متعلق امام بخاری نے ابن عباس الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وکذالک روى البخاری سے روایت کی ہے۔ابن عباس کہتے ہیں کہ متوفیک کے معنی ممیتک في معنى التوفي عن ابن عباس قال: متوفیک ممیتک۔منه ل المآئدة: ۱۱۸ یعنی میں تجھے وفات دوں گا کے ہیں۔منہ