الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 107
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۰۷ الاستفتاء فاستيقظوا يا فتيان! أين أنتم من پس اے نو جوانو! بیدار ہو جاؤ۔تعلیم قرآن سے تعليم القرآن؟ بل مات عیسی تم کتنے دور ہو ( حقیقت یہ ہے ) کہ حضرت عیسی كما ماتت إخوانه من النبيين بھی اپنے دوسرے نبی بھائیوں کی طرح وفات ولحق بهم كما تقرؤون فی پاگئے ہیں اور ان میں شامل ہو گئے ہیں جیسا کہ تم أخبار خير المرسلين۔أقرأتم في خير المرسلین کی احادیث میں پڑھتے ہو۔کیا تم نے الله حديث سيد الكائنات أنه في سيد الكائنات ﷺ کی حدیث میں پڑھا ہے کہ السماء في حجرة عَلى حِدَةٍ من آپ آسمان میں مرنے والوں سے علیحدہ ایک حجرے الأموات؟ كلا بل هو ميت ولا میں مقیم ہیں؟ ہر گز نہیں بلکہ وہ فوت شدہ ہیں اور يعود إلى الدنيا إلى يوم يبعثون يوم البعث تک دنیا کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں ومن قال متعمدا خلاف ذالک گے۔جس شخص نے اس کے خلاف عمداً کچھ اور کہا فهو من الذين هم بالقرآن تو وہ ان لوگوں میں سے ہے جو قرآن کا انکار کرتے يكفرون۔إِلَّا الذين خلوا مِن قَبلی ہیں سوائے ان لوگوں کے جو مجھ سے پہلے گزر چکے فهم عند ربهم معذورون ہیں۔پس وہ لوگ اپنے رب کے نزدیک معذور ويشهد القرآن أنه يقول يوم ہیں۔اور قرآن گواہی دیتا ہے کہ آپ (عیسی) القيامة إنّي ما كنت مطلعا على قیامت کے روز فرمائیں گے کہ مجھے اپنی امت کے ارتداد الأمة، ولا أعلم أنهم مرتد ہو جانے کا قطعی علم نہیں اور نہ ہی مجھے اتخذوني إلها من دون ربّ اس بات کا علم ہے کہ انھوں نے مخلوق کے رب کو البرية، وکذالک يبرء نفسه من چھوڑ کر مجھے معبود بنا لیا ہے۔آپ اپنے آپ کو علم فساد النصاری و وقوعهم نصاری کے بگاڑ اور ان کے گمراہی میں پڑنے کے في الضلالة۔فلو كان نازلا قبل متعلق علم رکھنے سے بری قرار دیں گے۔اگر انھوں القيامة لكان من شأنه أن يصدق نے قیامت سے پہلے نازل ہونا ہوتا تو آپ کی بحضرة الله كما هو طريق البررة، شان کا تقاضا تھا کہ آپ اللہ کے حضور سچ بات کہتے