الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 103

ضميمه حقيقة الوحي ۱۰۳ الاستفتاء بل ادارءُ تُم فيها ، فالآن يحكم بلکہ اس میں تم نے اختلاف کیا ہے۔ اس لئے اب الله فيما كنتم فيه تختلفون الله ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں تم وعندى شهادات من ربی و آیات با هم اختلاف کیا کرتے تھے۔ میرے پاس میرے رب کی شہادتیں اور نشانات ہیں جنہیں تم نے رأيتموهــا أأنتم تـنـكـرون؟ إن دیکھا ہے ، کیا تم (اب بھی) انکار کرتے ہو۔ جو الذين خلوا من قبلى لا إثم عليهم لوگ مجھ سے پہلے گزرے ہیں ان پر کوئی گناہ وهم من مبرؤون، والذين بلغتهم نہیں ، وہ بری ہیں ۔ ہاں البتہ وہ وہ لوگ جن تک دعوتي، ورأوا آياتي، وعرفوني میری دعوت پہنچی اور انہوں نے میری نشانیاں وعرفتهم بنفسي، وتمت عليهم دیکھیں اور انہوں نے مجھے پہچان لیا اور خود میں حجتی، ثم كفروا بآيات الله نے بھی انہیں اپنی پہچان کروائی اور جن پر میری و آذوني۔۔ أولئك قوم حق حجت تمام ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے عليهم عقاب الله، بأنهم لا اللہ کی آیات کا انکار کیا اور مجھے ایذا دی۔ یہ ایسے يخافون الله، وبای الله ورسله لوگ ہیں جن پر اللہ کا عذاب واجب ہو گیا ۔ کیونکہ وہ اللہ سے ڈرتے نہیں اور اس کی آیتوں اور اس يستهزؤون۔ وما جئتهم من غير بينة، بل أراهم ربي آيةً على آية، ومعجزة على معجزة، وأقيمت کے رسولوں سے استہزاء کرتے ہیں۔ میں کھلے نشان کے بغیر تو ان کے پاس نہیں آیا۔ بلکہ میرے رب نے انہیں نشان پر نشان اور معجزے پر معجزہ الحجة، وقضى التنازع دکھایا اور حجت قائم کر دی گئی اور تنازعے اور والخصومة، ثم على الإنكار جھگڑے کا فیصلہ کر دیا گیا۔ پھر بھی وہ انکار پر اصرار يصرون۔ أ يحاربون الله بما أنه کر رہے ہیں۔ کیا وہ اللہ سے اس وجہ سے جنگ جعلني المسيح الموعود والمهدی کرتے ہیں کہ اس نے مجھے مسیح موعود اور مہدی المعهود، وله الأمر وله الحكم معہود بنایا جبکہ امر اور فیصلہ کا اختیار اسی کو ہے۔