الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 102

ضميمه حقيقة الوحى ۱۰۲ الاستفتاء وقد رأيتم الآيات وأعطيتم تم نے تو نشانات دیکھے اور تمہیں کھلے کھلے نشان عطا البينات فنبذتموها كالحصات کئے گئے لیکن تم نے ان سب کو کنکریوں کی طرح وفتح لكم باب الحسنات پھینک دیا۔ اور تمہارے لئے نیکیوں کے دروازے فعلقتم أبوابكم، لئلا تدخل في کھولے گئے لیکن تم نے اپنے دروازے بند کر لئے العرصات ما لكم لا تتقون تاکہ وہ ( نیکیاں ) تمہارے صحنوں میں داخل نہ ہو حرمات الله وللتكذيب جائیں ۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی ممنوعہ حدوں تعجلون؟ وإن الله سياف يسل سے بچ کر نہیں رہتے اور تکذیب میں جلد بازی کرتے سيفه على الذين يعتدون ۔ ہو۔ اللہ شمشیر زن ہے اور اس نے حد سے تجاوز وإني أنا المسيح الموعود کرنے والوں کے لئے اپنی تلوار کو سونت لیا ہے۔ وأنتم تكذبونني وتسبون میں ہی مسیح موعود ہوں اور تم مجھے جھٹلاتے اور وتقولون إن هذا الدعوى باطل گالیاں دیتے ہو اور یہ بھی کہتے ہو کہ (میرا) یہ وقول خالفه الأولون ۔ فأعجبني دعوى باطل ہے اور ایسا قول ہے جس کی پہلے لوگوں قولكم هذا مع دعاوى العلم نے مخالفت کی ہے۔ علم وفضل کے دعوؤں کے والفضل! أتقولون ما يخالف با وجود تمہاری بات نے مجھے حیرت میں ڈال دیا القرآن وأنتم تعلمون؟ وإن ہے۔ کیا جانتے بوجھتے ہوئے تم وہ بات کہہ رہے دعوى الإجماع بعد الصحابة ہو جو مخالف قرآن ہے۔ صحابہ کے بعد اجماع کا دعوى باطل و كذب شنيع لا دعوی ایک باطل دعوئی اور بدترین کذب ہے۔ يصر عليه إلا الظالمون۔ وأنى جس پر صرف ظالم لوگ ہی اصرار کرتے ہیں۔ اور الإجماع؟ أتنسون ما قال کیسا اجماع کیا تم بھول جاتے ہو جو معتزلہ نے المعتزلون؟ أتزعمون أنهم ليسوا کہا؟ کیا تم خیال کرتے ہو کہ وہ مسلمانوں میں من المسلمين وأنتم قوم مسلمون؟ سے نہیں اور صرف تم ہی مسلمان ہو۔ پس ثابت فثبت أن قولكم ليس قولا واحدًا ہوا کہ تمہارا قول ایک (متفق علیہ ) قول نہیں۔ کک