الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 101

ضمیمه حقيقة الوحي 1+1 الاستفتاء والله يعلم ما في قلبي، ويشهد جو میرے دل میں ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے اور اپنے نشانوں سے اس امر کی شہادت دیتا ہے بآياته أنهم كاذبون ما کہ وہ جھوٹے ہیں۔میرا دعویٰ اپنی طرف سے كان حدیث یفتری، بل جنت گھڑی ہوئی بات نہیں بلکہ میں حق لے کر آیا ہوں بالحق، وبالحق أرسلت، فما اور حق کے ساتھ بھیجا گیا ہوں تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم مجھے نہیں پہچانتے۔لكم لا تعرفون۔وإني أنا ضالتكم، لا مضلكم اے مسلمانو! میں ہی تمہاری کھوئی ہوئی متاع ہوں، أيها المسلمون۔فهل فيكم من تمہیں گمراہ کرنے والا نہیں۔پس کیا کوئی ہے تم ۴۲) میں جو میری دعوت قبول کرے اور میری باتوں پر يقبل دعوتي، وينظر بحسن الظنّ حسن ظن سے غور کرے۔اے متکبرو! کیا تم میں إلى كلمتى؟ أليس فيكم رجل رشيد أيها المستكبرون؟ ولو لم أبعث، يا فتيان، في هذا الزمان کوئی ایک بھی سمجھ دار آدمی بھی نہیں ؟۔اے عزیز جوانو! اگر میں اس زمانے میں مبعوث نہ کیا جاتا تو اہلِ صلیب دین (اسلام) کو پامال کر دیتے اور یہ لوطاً الدين أهل الصلبان۔وإنّ (عیسائیت کا ) سیل تند و تیز سروں تک پہنچ گیا ہے هذا السَّيل بلغ الرؤوس، وأفنى اور اس نے لوگوں کو فنا کر دیا ہے۔کیا تم پادریوں کو النفوس، ألا تعلمون القسوس نہیں جانتے کہ کس طرح گمراہ کر رہے ہیں اور میں كيف يُـضـلـون؟ وما أُرسلتُ إِلَّا ایسی گمراہی کے وقت میں بھیجا گیا ہوں جس نے عند ضلال نجس الأرض س الأرض ساری زمین ناپاک کر دی ہے اور اس میں بسنے وأهلك أهلها، فما لكم لا والوں کو ہلاک کر دیا ہے۔تمہیں کیا ہو گیا ہے تفهمون؟ ووالله لیس فی الدھر کہ تم سمجھتے نہیں۔اللہ کی قسم ! دنیا میں تمہاری أعجب من حالكم! کیف طال حالت سے زیادہ عجیب ترکوئی اور حالت نہیں إعراضكم وصَفُحُكم عنی تمہارا مجھ سے اعراض اور بے رخی کتنی لمبی ہوگئی۔