الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 101
ضميمه حقيقة الوحي ۱۰۱ الاستفتاء والله يعلم ما في قلبي، ويشهد جو میرے دل میں ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے اور اپنے نشانوں سے اس امر کی شہادت دیتا ہے بآياته أنهم كاذبون ۔ ما کہ وہ جھوٹے ہیں۔ میرا دعویٰ اپنی طرف سے كان حديث يفترای بل جئت گھڑی ہوئی بات نہیں بلکہ میں حق لے کر آیا ہوں بالحق، وبالحق أرسلت، فما اور حق کے ساتھ بھیجا گیا ہوں تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ لكم لا تعرفون۔ تم مجھے نہیں پہچانتے۔ وإني أنا ضالتكم، لا مضلكم اے مسلمانو! میں ہی تمہاری کھوئی ہوئی متاع ہوں، أيها المسلمون۔ فهل فيكم من تمہیں گمراہ کرنے والا نہیں۔ پس کیا کوئی ہے تم ۴۲ میں جو میری دعوت قبول کرے اور میری باتوں پر يقبل دعوتي، وينظر بحسن الظن حسن ظن سے غور کرے۔ اے متکبرو! کیا تم میں إلى كلمتى؟ أليس فيكم رجل رشيد أيها المستكبرون؟ ولو لم أُبعث، يا فتيان، في هذا الزمان لوطأ الدين أهل الصلبان۔ وإنّ هذا السيل بلغ الرؤوس، وأفنى کوئی ایک بھی سمجھ دار آدمی بھی نہیں ؟ ۔ اے عزیز جوانو! اگر میں اس زمانے میں مبعوث نہ کیا جاتا تو اہل صلیب دین (اسلام) کو پامال کر دیتے اور یہ ( عیسائیت کا ) سیل تند و تیز سروں تک پہنچ گیا ہے اور اس نے لوگوں کو فنا کر دیا ہے۔ کیا تم پادریوں کو النفوس، ألا تعلمون القسوس نہیں جانتے کہ کس طرح گمراہ کر رہے ہیں اور میں كيف يُضلون؟ وما أرسلت إلا ایسی گمراہی کے وقت میں بھیجا گیا ہوں جس نے عند ضلال نجس الأرض ساری زمین نا پاک کر دی ہے اور اس میں بسنے وأهلك أهلها ، فما لكم لا والوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے تفهمون؟ ووالله، ليس في الدهر کہ تم سمجھتے نہیں ۔ اللہ کی قسم ! دنیا میں تمہاری أعـجـب مــن حـالكـم! کیف طال حالت سے زیادہ عجیب ترکوئی اور حالت نہیں إعراضكم وصَفْحُكم عنی تمہارا مجھ سے اعراض اور بے رخی کتنی لمبی ہو گئی۔