الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 100
ضميمه حقيقة الوحي ١٠٠ الاستفتاء ثم تقولون إنا بذلنا الجهد حق پھر اس پر بھی تم یہ کہتے ہو کہ ہم نے (دین کے الجهد وإنا مستفرغون ۔ فكروا يا لئے ) پوری کوشش کر لی ہے اور اب ہم فارغ ہیں۔ نو جوانو ! سوچو کہ کیا وہ وقت قریب نہیں آگیا تھا کہ فتيان، ألم يأن أن يرسل الله إمامًا في هذه العمران؟ وإنكم مو اللہ اس معمورہ عالم میں امام بھیجے ۔ تم اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان کو توڑتے ہو اور جن کے متعلق تنقضون عهد الله وتقطعون ما اللہ نے یہ حکم دیا تھا کہ انہیں مضبوط کیا جائے بائے قطع أمر الله به أن يوصل وفي الأرض کرتے ہو اور زمین میں فساد بر پا کرتے ہو۔ اللہ تفسدون۔ ووالله، إن الوقت هذا کی قسم ! (امام کے آنے کا) وقت یہی وقت ہے۔ الوقت فما لكم لا تتقبلون؟ پس تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ کہ تم اسے قبول نہیں کرتے۔ وإني، والله، في هذا الأمر اللہ کی قسم ! میں اس معاملے میں ہر محتاج کا (اسی كعبة المحتاج، كما أن في مكة (طرح) کعبہ ہوں جیسے حاجیوں کا مکہ معظمہ میں کعبہ كعبة الحجاج، وإنی أنا الحجر ہے اور میں ہی وہ حجر اسود ہوں جس کے لئے تمام الأسود الذي وضع له القبول فی کرہ ارض میں قبولیت رکھ دی گئی ہے اور جسے چھو کر الأرض والناس بمسه يتبركون لوگ برکت حاصل کرتے ہیں اللہ کی لعنت ان لعن الله قوما يقولون إنه يريد لوگوں پر جو یہ کہتے ہیں کہ یہ (امام ) دنیا کا طالب ہے الدنيا، وإنا من الدُّنيا مُبْعَدون۔ حالانکہ ہم دنیا سے الگ تھلگ ہیں اور میں اس لئے وجئت لأقيم الناس على التوحيد آیا ہوں تا لوگوں کو توحید اور نماز پر قائم کروں نہ والصلوة، لا لإقناء أنواع الصلاة اس لئے کہ طرح طرح کے تحفے تحائف عطا کروں ۔ هذا خلاصة ما أوحى الله إلى، وهذه یہ خلاصہ ہے اس کا جو اللہ نے میری طرف وحی کی ، یہ استعارة من الله الكريم۔ وكذالك قال اللہ کریم کی طرف سے استعارہ ہے۔ تعبیر کرنے والوں نے المعبرون أن المراد من الحجر الأسود فی یہی کہا ہے کہ علم الرویا میں حجر اسود سے مراد عالم فقیہ اور علم الرؤيا المرء العالم الفقيه الحكيم۔ منه صاحب حکمت شخص ہوتا ہے۔ منہ