الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 99
ضميمه حقيقة الوحي ۹۹ الاستفتاء وأما الآفات الروحانية فيُهلك اور جو روحانی آفات ہیں وہ جسم اور روح اور ایمان الجسم والروح والإيمان معا ۔ کو ایک ساتھ ہلاک کرتی ہیں۔ سواگر تم عقل مند ہو فلا تسبوا أعداء كم، وسُبّوا تو اپنے دشمنوں کو بُرا بھلا مت کہو بلکہ اپنے آپ أنفسكم إن كنتم تعقلون ۔ ما لكم کو بُرا بھلا کہو۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم آسمان کی لا تنظرون إلى السماء ، وصرتم طرف نہیں دیکھتے اور (محض ) دنیا دار بن گئے ہو۔ بني الغبراء ، وإن الله عرض اللہ نے تمہارے سامنے دین کا تازہ دودھ پیش علیكم حليب الدين فأنتم کیا مگر تم ہو کہ اسے ناپسند کرتے ہو پھر ایک قوم نے تعافون ، ثم قدم قوم إليكم لحم تمہیں سور کا گوشت پیش کیا پس تم بڑے مزے الخنازير فأنتم بالشوق لے لے کر اُسے کھاتے ہو اور جو اُن کے دین سے تتمششون۔ ومن دخل منهم في نکل کر تمہارے دین میں داخل ہوتا ہے وہ منافقوں دينكم فلا يدخل إلا كأهل کی طرح داخل ہوتا ہے۔ اور لالچی بن کر بازاروں النفاق، ويطوف طامعا في میں گھومتا اور پیسے مانگتا ہے۔ وہ (عیسائی) بڑھے الأسواق، مكديًا بالأوراق، وهم يكثرون وأنتم تقلون ۔ فإلام هذه جارہے ہیں اور تم گھٹتے جارہے ہو۔ اے جاہلو! یہ زندگی کب تک رہے گی !! تم دنیا کے اموال پر جھک الحياة أيها الجاهلون؟ تتمايلون على أموال الدنيا، وما تبصرون گئے ہو اور یہ نہیں دیکھتے کہ تم ( یہ مال ) کہاں سے جمع کر رہے ہو؟ تم دستر خوان کو تو دیکھتے ہو لیکن من أين تقتنئون وترون الخوان گمراہ کرنے والے خائنوں کو نہیں دیکھتے گویا تم وما ترون المضل الخوان كأنكم قوم عمون۔ وتتركون اندھی قوم ہو۔ تم نماز عشاء چھوڑ کر ہم مشربوں کے العشاء ، وبالندامى تَغْتَبِقُون ساتھ تم کے ثم لنڈھاتے ہو اور کاہلوں کی طرح وتعيشون كسالى، ولا تمسون زندگی بسر کرتے ہو اور زندگی بسر کرتے ہو اور تم دین کو انگلی سے بھی نہیں الدين بإصبع ولا له تتألمون۔ چھوتے اور نہ تم دین کے لئے درد رکھتے ہو۔ 6 تقتنئون سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔ درست تقتنون ہے۔(ناشر)