الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 99

ضمیمه حقيقة الوحي ۹۹ الاستفتاء وأما الآفات الروحانية فيهلک اور جو روحانی آفات ہیں وہ جسم اور روح اور ایمان الجسم والروح والإيمان معا۔کو ایک ساتھ ہلاک کرتی ہیں۔سوا گر تم عقل مند ہو فلا تسبوا أعداء كم، وسبوا تو اپنے دشمنوں کو بُرا بھلا مت کہو بلکہ اپنے آپ أنفسكم إن كنتم تعقلون ما لكم کو بُرا بھلا کہو۔تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم آسمان کی لا تنظرون إلى السماء ، وصرتم طرف نہیں دیکھتے اور (محض) دنیادار بن گئے ہو۔اور بنى الغبراء ، وإن الله عرض اللہ نے تمہارے سامنے دین کا تازہ دودھ پیش۔عليـكـم حـلـيــب الـديـن فـأنتم کیا مگر تم ہو کہ اسے ناپسند کرتے ہو پھر ایک قوم نے تعافون ، ثم قدم قوم إليكم لحم تمہیں سور کا گوشت پیش کیا پس تم بڑے مزے الخنازير فأنتم بالشوق لے لے کر اُسے کھاتے ہو اور جو اُن کے دین سے تتمششون۔ومن دخل منهم فى نكل كر تمہارے دین میں داخل ہوتا ہے وہ منافقوں ديـنـكـم فـلا يـدخـل إلا كـأهل کی طرح داخل ہوتا ہے۔اور لالچی بن کر بازاروں النفاق، ويطوف طامعا في میں گھومتا اور پیسے مانگتا ہے۔وہ (عیسائی) بڑھے الأسواق، مكدّيًا بالأوراق، وهم جارہے ہیں اور تم گھٹتے جارہے ہو۔اے جاہلو! یہ يكثرون وأنتم تقلون۔فإلام هذه زندگی کب تک رہے گی !! تم دنیا کے اموال پر جھک الحياة أيها الجاهلون؟ تتمايلون گئے ہو اور یہ نہیں دیکھتے کہ تم ( یہ مال ) کہاں سے على أموال الدنيا، وما تبصرون جمع کر رہے ہو؟ تم دستر خوان کو تو دیکھتے ہو لیکن من أين تقتنئون وترون الخوان گمراہ کرنے والے خائنوں کو نہیں دیکھتے گویا تم وما ترون المُضلّ الخوان، كـأنـكـم قـوم عـمون۔وتتركون اندھی قوم ہو۔تم نماز عشاء چھوڑ کر ہم مشربوں کے العشاء ، وبالندامى تَعْتَبقون ساتھ ٹم کے ثُم لنڈھاتے ہو اور کاہلوں کی طرح ہواور وتعيشون گسالی، ولا تمسون زندگی بسر کرتے ہو اور تم دین کو انگلی سے بھی نہیں۔الدين بإصبع ولا له تتألمون | چھوتے اور نہ تم دین کے لئے در در کھتے تقتنئون سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔درست تقتنون ہے۔(ناشر) ہو۔