الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 98

ضميمه حقيقة الوحي ۹۸ الاستفتاء ولكن ذنوبکم هزمتكم و ترکتم لیکن تمہارے گناہوں نے تمہیں شکست دی ہے۔ الحضرة وكذالك تتركون۔ وإن تم نے اللہ کو چھوڑ دیا اسی طرح تم بھی چھوڑ دیئے الله نظر إلى قلوبكم، فما آنس جاؤ گے۔ اللہ نے تمہارے دلوں پر نگاہ ڈالی تو اس نے ان میں تقوی نہ پایا جس کے نتیجے میں اس نے تم پر نافرمان قوم مسلط کر دی اور تمہیں عذاب دینے کے لئے انہیں نیزے دیئے۔ پس کیا تم باز آؤ گے؟ اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا جب تک وہ اپنی حالت خود نہ بدلیں ۔ کیا تم مَا بِأَنْفُسِهِمْ فهل أنتم مغيرون؟ و (اپنے اندر) تبدیلی پیدا کرو گے؟ اگر تم شکر کرو مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَا بِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ اور ایمان لاؤ تو اللہ کو تمہیں عذاب دینے کی کیا فيها تقاةً، فسلّط عليكم قومًا عصاة ، وأعطاهم لتعذ يبكم قناة ، فهل أنتم منتهون؟ إن الله L وَ أَمَنْتُمْ فهل أنتم مؤمنون؟ ضرورت ہے؟ سو کیا تم ایمان لاؤ گے؟ أأنتم تظنون أنكم أحياء بهذا کیا تم اس دائمی گناہ کے ساتھ اپنے آپ کو الذنب الدائم، والموت خیر زندہ سمجھتے ہو؟ ایک جواں مرد کے لئے چوپایوں للفتى من عيشه عيش البهائم جیسی زندگی گزارنے سے موت کہیں بہتر ہے۔ تم فما لكم لا تتنبهون؟ وإنّ کیوں متنبہ نہیں ہوتے؟ عیسائیت ہر روز النصرانية تأكلكم كل يوم كما تمہیں ایسے کھا رہی ہے جیسے آگ ایندھن کو کھاتی تأكل النار الحطب، ليتم ما قدر ہے تا اللہ نے جو تمہارے لئے مقدر کیا اور لکھ چھوڑا ہے وہ پورا ہو۔ خدا کی قسم ! یہ وباء سب الوباء أكبر من كل وباء، وهذه الزلزلة أكبر من كل زلزلة، وما وباؤں سے بڑی اور یہ زلزلہ سب زلزلوں سے نزل عليكم ما نزل إلا من ذنوبكم بڑھ کر ہے۔اے فاسقو ! جو عذاب تم پر نازل ہوا أيها الفاسقون۔ وإن الآفات ہے وہ محض تمہارے گناہوں کے سبب نازل ہوا ہے۔ الجسمانية لا تُهلك إلَّا جسمًا، یہ جسمانی آفات صرف جسم کو ہلاک کرتی ہیں الله وكتب۔ ووالله، إن هذا الرعد : ١٢ النساء : ۱۴۸