الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 97
ضمیمه حقيقة الوحي ۹۷ الاستفتاء فسوف تأتيكم أنباء ما كنتم به جن باتوں کا تم مذاق اڑا رہے تھے اس کی خبریں تستهزؤون۔ومن الآفات أن قوما عنقریب تمھارے پاس آئیں گی اور آفات میں يدعونكم إلى الكفر، إطماعًا فی سے ایک آفت) یہ بھی ہے کہ ایک قوم تمہیں نجار الصفر، ويعرضون ذهبًا سونے چاندی کا طمع دے کر کفر کی طرف بلا رہی على كلّ ذاهب لعلهم يتنصرون ہے۔اور وہ ہر جانے والے کو سونا پیش کر رہے ہیں إنهم أولو الطول وأنتم الفقراء ، اس خیال سے کہ شاید اس طرح وہ عیسائی ہو وفتح عليهم أبواب الدنيا وأنتم جائیں۔یقیناً وہ دولت مند ہیں اور تم قلاش۔ان پر في البؤس تصبحون وتُمسون دنیا کہ دروازے کھولے گئے ہیں اور تم دن رات وتلك فتنة أكبر من كلّ فتنة، تنگ دستی میں صبح و شام کرتے ہو۔یہ فتنہ ہر فتنے سے وبلية أشد من كل بلية، فإنكم بڑا اور یہ مصیبت ہر مصیبت سے شدید تر ہے تم ان کی تحتاجون إلى رغفانهم وهم لا روٹیوں کے محتاج ہو اور وہ محتاج نہیں۔وہ تمہاری يحتاجون۔وحلّوا أرضكم وملكتها سرزمین پر اترے اور ان کے بادشاہوں نے اس ملوكهم، فلابد من تأثر كما پر قبضہ جمالیا اس لئے (اس سے ) متاثر ہونا ایک تشاهدون۔ثم من إحدى المصائب لازمی امر ہے جیسا تم مشاہدہ کر رہے ہو پھر ایک أن أمرائكم على الدين مصیبت یہ بھی ہے کہ تمہارے امراء دین پر پھبتیاں يستهزؤون، وفقرائکم علی کہتے ہیں اور تمہارے فقراء دنیا پر گرے پڑتے الدنيا يتجانؤون، فلا نجد قرة ہیں۔پس ہمیں آنکھ کی ٹھنڈک نہ تم سے ملتی ہے العين من أولئكم ولا من هؤلاء ، اور نہ ان سے۔ہم ان میں سے ہر ایک سے مایوس وإنا من كل آيسون۔وسَرّحنا ہیں ہم نے ان دونوں فریقوں پر نگاہ ڈالی تو ہمیں الطرف في الطرفين، فأَخَذَنا ما اس حالت فکر ) نے آلیا جو ایک بیمار کو موت يأخذ السقيم عند آثار المنون کے آثار ظاہر ہونے پر دامنگیر ہوتی ہے۔اور کسی وما كان لكافر أن يهزمكم، کافر کی مجال نہیں تھی کہ وہ تمہیں شکست دیتا