الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 57 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 57

۵۷ الحُجَّةُ البَالِغَةُ یعنی تم پیدا کئے جانے کے بعد فوت ہو گے اور پھر قیامت کے دن ہی دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کا وقت قیامت کا ہی دن ہے اور اس سے پہلے ہر گز نہیں۔پھر فرمایا :- وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (سوره مومنون رکوع ۶ ) یعنی جو لوگ مر جاتے ہیں ان کے اور اس دنیا کے درمیان ایک روک ہو جاتی 66 ہے جو قیامت کے دن تک رہے گی۔“ اس آیت نے وضاحت کے ساتھ اس امر کا فیصلہ کر دیا کہ جو شخص مرجاوے وہ قیامت کو ہی زندہ کیا جائے گا۔قیامت کے پہلے اس کے اور اس دنیا کے درمیان اللہ تعالیٰ نے ایک روک رکھ دی ہے جو صرف قیامت کے دن اُٹھائی جاوے گی۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- وَحَرُمُ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (سوره انبیاء رکوع ) یعنی جن لوگوں کو ہم مار دیتے ہیں اُن پر حرام ہے کہ وہ اس دنیا کی طرف واپس لوٹیں۔66 پھر نبی کریم سالی ایم کی ایک حدیث ہے جو اس مسئلہ کو بالکل ہی صاف کر دیتی ہے۔آپ صلیم فرماتے ہیں کہ جنگ اُحد میں جب جابر کے والد شہید ہوئے تو اُن سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ جو مانگو گے میں تم کو دوں گا۔انہوں نے عرض کیا کہ خدایا مجھے پھر زندہ کیا جاوے تا میں اسلام کے راستے میں پھر لڑوں اور پھر اپنی جان دوں۔خدا تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ:-