الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 39
۳۹ الحُجَّةُ البَالِغَةُ فائدہ تھا؟ اس آیت میں رافِعُكَ کا لفظ اس بات پر یقینی شہادت ہے کہ مُتَوَفِّيت کا لفظ رافِعُكَ سے الگ مفہوم رکھتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوفر ما تا ہے:۔إِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (یونس رکوع ۵) در یعنی ہم جو کفار کو عذاب کے وعید دے رہے ہیں ان میں یا تو بعض تجھے دکھا دیں گے اور یا تجھے وفات دے دیں گے۔“ پھر قرآن میں لکھا ہے:۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (اعراف رکوع ۱۴) یعنی اے ہمارے رب ہم کو صبر کی کامل توفیق عطا کر اور ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں۔“ غرض تو قی کے لفظ پر اڑ نا پرلے درجے کی ہٹ دھرمی ہے اور پھر تعجب یہ کہ جب کسی اور شخص کے لئے یہی لفظ تو قی کا استعمال ہو تو اس کے معنی وفات دینے کے کئے جاتے ہیں لیکن جہاں یہ حضرت عیسی کے متعلق استعمال ہوا فوراً اس کے معنی آسمان کی طرف اٹھا لینے کے کر دئے جاتے ہیں! افضل الرسل حضرت محمد رسول صلی ایتم کے متعلق تو وفات دینے کے معنی رہے لیکن حضرت عیسی کے متعلق آسمان پر لے جانے کے معنی پیدا ہو گئے۔یہ کیسا انصاف ہے اور کیسی غیرت ہے؟ نعوذباللہ من ذلك!