الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 91 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 91

۹۱ الحُجَّةُ البَالِغَةُ گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“ (تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۶۶-۶۷) تمہ رسالہ ہذا ! حضرت مرزا غلام احمد صاحب بانی سلسلہ احمدیہ کی جو شاندار پیشگوئی او پر کی عبارت میں درج ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس اعلان سے تین سوسال کے اندراندر کیا مسلمان اور کیا عیسائی حضرت مسیح" ناصری کے جسمانی نزول کے متعلق مایوس ہوکر اس جھوٹے عقیدے کو چھوڑ دیں گے اور دنیا دوسرے رنگ میں پلٹا کھا جائے گی اس کے ابتدائی آثار ابھی سے ظاہر ہورہے ہیں۔چنانچہ مسلمانوں کا ایک طبقہ اس خیال کی طرف مائل ہو رہا ہے کہ کسی مسیح کے آسمان سے نازل ہونے کا خیال غلط ہے۔چنانچہ علامہ اقبال مرحوم نے بھی اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل اپنے ایک مضمون میں اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ ہمارے مولویوں سے سخت غلطی ہوئی کہ انہوں نے مسیح کے نزول کے عقیدے کو صحیح تسلیم کر کے جماعت احمدیہ کے ساتھ بحث کا دروازہ کھولا اور اس بحث میں شکست کھائی۔انہیں چاہئے تھا کہ سرے سے مسیح “ کے نزول سے ہی منکر ہو کر احمدیت کا مقابلہ کرتے اور اس طرح مسیح کے نزول سے انکار پر ہی اس ساری بحث کا خاتمہ کر دیتے تا کہ بقول شخصے نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری اس قسم کے خیالات کا قریب کے زمانے میں بعض دوسرے مسلمان افراد نے بھی اظہار کرنا شروع کر دیا ہے اور یقیناً یہ احمدیت کی ایک عظیم الشان فتح اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی مندرجہ بالا لے یہ تمہ رسالہ ہذا کے دوسرے ایڈیشن کے وقت لکھا جا کر رسالہ ہذامیں شامل کیا جارہا ہے۔خاکسار مصنف رسالہ الحجۃ البالغہ )