الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 84 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 84

۸۴ الحُجَّةُ البَالِغَةُ لحاظ سے آنے والے کو خصوصیت کے ساتھ عیسی ابن مریم کا خطاب دیا گیا اور دیگر امتوں کی اصلاح کے لحاظ سے صرف مجملاً وَإِذَا الرُّسُلُ أَقتَت ( مرسلات رکوع ۱ ) کے الفاظ استعمال کئے گئے۔" یعنی آخری زمانے میں تمام رسولوں کے بروز جمع کئے جائیں گے۔اس کے مقابل میں امت محمدیہ کی اصلاح کا کام بھی ایک خصوصیت کا کام تھا اس لئے اس پہلو کے لحاظ سے آنے والے کا نام مہدی رکھا گیا جو اس ارشاد نبوی کے مطابق تھا کہ اَلخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المَهدِتين یعنی میرے خلفاء سیدھے رستہ پر چلنے والے مہدی ہوں گے۔اور ظاہر ہے کہ موعود امام نے مسلمانوں کی اصلاح کے کام میں نبی کریم کا سب سے بڑا خلیفہ ہونا تھا۔عیسی بن مریم کے نام میں اور بھی بعض حکمتیں ہیں مگر ایک صاف دل کی تسلی کے لئے اسی قدر کافی ہے۔رسالہ ہذا کا اختتام اور مصنف کی دلی دُعا اب میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے ناظرین کرام کے سینوں کو فراخ کرے تاوہ اپنی غلطی کے اعتراف کرنے میں ضد سے کام نہ لیں بلکہ حق گھل جانے پر اسے قبول کر لینے کو تیار ہوں۔میں تو جب اس مسئلے ا ہم نے لکھا ہے کہ مہدی اور مسیح ایک شخص کے ہی دو نام ہیں۔اس پر طبعا ناظرین کو خیال پیدا ہوگا کہ ہم تو ان دونوں کو دو مختلف وجود سنتے اور سمجھتے چلے آئے ہیں یہ ایک کس طرح ہو سکتے ہیں۔سو اس کے جواب میں یا درکھنا چاہئے کہ آخری زمانے کے موعود کو دو مختلف حیثیتوں کی وجہ سے یہ دو مختلف نام دیئے گئے ہیں اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ ایک ہی وقت میں دو مختلف مشخص ظاہر ہوں گے۔مگر عام مسلمانوں نے غلطی سے یہ سمجھ لیا کہ ایک ہی وقت میں دو مصلحوں کے ظہور کی خبر دی گئی ہے۔نبی کریم نے تو اس خیال سے کہ مسلمان مہدی اور مسیح کو الگ الگ نہ سمجھنے لگ جائیں یہاں تک احتیاط فرمائی تھی کہ فرما یا لا المهدئ الا عيسى (ابن ماجہ وحاکم یعنی عیسی کے وقت میں عیسی کے سوا کوئی اور مہدی موعود نہیں ہو گا مگر افسوس کہ ہمارے مسلمان بھائی باوجود اس کے ٹھوکر کھانے سے نہ بچے۔