الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 69
۶۹ الحُجَّةُ البَالِغَةُ اس حدیث میں نبی کریم آنے والے مسیح کا خلیہ یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ گندم گوں ہے اور اس کے بال سیدھے اور لمبے ہیں۔اس بات کا ثبوت کہ یہاں مسیح سے مراد آنے والا مسیح ہے خود اسی حدیث میں موجود ہے کیونکہ اسی حدیث میں آگے چل کر نبی کریم فرماتے ہیں کہ میں نے اس وقت دجال کو بھی دیکھا جس سے ظاہر ہے کہ یہ مسیح وہ ہے جو دجال کے مقابل پر ظاہر ہوگا۔اب معاملہ بالکل صاف ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام جو بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے ان کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ان کا رنگ سرخ تھا اور بال گھنگھرالے تھے لیکن آنے والا مسیح جو دجال کے زمانہ میں ظاہر ہوگا اس کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ اس کا رنگ گندم گوں ہے اور اس کے بال سیدھے اور لمبے ہوں گے۔دونوں خلیوں میں فرق ظاہر و بقین ہے کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔کہاں سرخ رنگ اور کہاں گندم گوں رنگ۔پھر کہاں گھنگھرالے بال اور کہاں سیدھے بال ! دیکھئے کس طرح نبی کریم نے صفائی کے ساتھ بتادیا کہ اے مسلمانو! ابن مریم کے لفظ سے یہ نہ سمجھ لینا کہ اسرائیلی مسیح ہی تم میں نازل ہوں گے کیونکہ اُن کا رنگ سرخ تھا اور بال گھنگھرالے تھے لیکن آنے والے مسیح کا رنگ گندم گوں ہوگا اور بال سید ھے اور لمبے ہوں گے۔اس سے زیادہ وضاحت کیا ہوگی؟ دونوں مسیحوں کی تصویر ناظرین کے سامنے رکھ دی گئی ہے اور تصویر بھی خود نبی کریم کے ہاتھ کی کھینچی ہوئی ہے۔اب ناظرین خود فیصلہ کریں کہ کیا دونوں تصویروں میں ایک شخص کی صورت نظر آ رہی ہے؟ جس کو خدا نے آنکھیں دی ہیں وہ تو دونوں کو ایک نہیں کہہ سکتا۔حضرت مرزا صاحب کیا خوب فرماتے ہیں۔