الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 65
الحجة البالغة بچا سکتا۔ملاحظہ ہو آیت :- كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ نیز ملاحظہ ہو يُدْرِكُكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ حدیث صاف طور پر بتا رہی ہے کہ مسیح موعود اسی اُمت میں سے ہوگا پھر قرآن شریف ہی نہیں بلکہ حدیث بھی صاف الفاظ میں بتارہی ہے کہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔نبی کریم فرماتے ہیں :- كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ( بخاری کتاب بدء الخلق ) یعنی کیا ہی اچھا حال ہوگا تمہارا اے مسلمانو جب مسیح ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور وہ امام ہوں گے تمہارے تمہیں لے میں سے۔“ لے بعض لوگ اس حدیث کے یہ معنی کرتے ہیں کہ الفاظ امامکم منکم مسیح کے متعلق نہیں ہیں بلکہ مہدی کے متعلق ہیں جو مسیح کے زمانے میں مبعوث ہوگا اور مسلمانوں کا امام ہوگا مگر لطیفہ یہ ہے کہ ہم نے حدیث صحیح بخاری سے لی ہے جس میں مہدی کے ظہور کا کوئی باب ہی نہیں باندھا گیا۔جس کی وجہ یہ ہے کہ مہدی کے متعلق احادیث میں ایسی گڑبڑ اور ایسا اختلاف ہے کہ کسی حدیث کے متعلق کامل یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ صحیح ہے۔تو اب اگر اس حدیث میں امامکم منکم کے الفاظ مہدی کے متعلق ہوتے تو ضروری تھا کہ امام بخاریؒ جو محدثین کے سب سے بڑے امام ہیں وہ مہدی کا باب باندھ کر اس حدیث کو مہدی کے نزول کے ضمن میں بھی بیان کرتے لیکن وہ یہ حدیث صرف مسیح کے متعلق لائے ہیں اور مہدی کا ذکر تک نہیں کیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ امام صاحب نے کبھی امامکم منکم کے الفاظ کا اشارہ مہدی کی طرف نہیں سمجھا کیونکہ اگر وہ ایسا سمجھتے تو وہ اس حدیث کو مہدی کے نزول کے ثبوت میں پیش کرتے۔یہی حال امام مسلم کا ہے بلکہ امام مسلم نے تو امامکم کی جگہ امکم کی روایت بیان کر کے فیصلہ ہی کر دیا ہے۔