الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 61
۶۱ الحُجَّةُ البَالِغَةُ باب چهارم ( قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ آنے والا اسی اور ہے جوای امت میں سے ہوگا ) اب جبکہ یہ ثابت ہو چکا کہ قرآن شریف اور احادیث اس بات پر متفقہ شہادت دے رہے ہیں کہ مسیح ناصری آسمان کی طرف بجسم عصری نہیں اُٹھایا گیا بلکہ فوت ہو گیا ہے اور یہ کہ جو شخص فوت ہو جاتا ہے وہ دوبارہ اس دنیا میں نہیں لایا جاتا تو اس سے لازمی نتیجہ یہ بھی نکلا کہ آنے والا مسیح اسی امت میں سے ہوگا لیکن مزید تسلی کے لئے میں اس اصولی نتیجہ پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ اپنے ناظرین کو بتا تا ہوں کہ قرآن شریف اور احادیث میں وضاحت سے لکھا ہے کہ آنے والا مسیح اور ہے جو اسی اُمت میں سے ہوگا۔نبی کریم سی ایم کے تمام خلفاء آپ ہی کی اُمت میں سے ہوں گے قرآن مجید میں خدا فرماتا ہے کہ :- وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ( سوره نور رکوع ۷) یعنی اے مسلمانو! اللہ تعالٰی وعدہ کرتا ہے ان لوگوں سے جو تم میں سے اعلیٰ درجہ کا ایمان لائے اور انہوں نے اعلیٰ اعمال کا نمونہ دکھایا کہ اللہ ضرور ضروران کو زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح کہ اس نے خلیفہ بنایا ان لوگوں کو جو اُن سے پہلے گزر چکے۔“