الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 59 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 59

۵۹ الحصة البالغة يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (سوره انفال رکوع ۳) یعنی اے مومنو! تم اللہ کی بات مان لیا کرو اور رسول کی آواز پر بھی کان دھرا کرو جب کہ وہ تمہیں بلائے کیونکہ وہ تمہیں زندہ کرتا ہے۔“ دیکھو نبی کریم کے متعلق کس وضاحت کے ساتھ زندہ کرنے کا لفظ آیا ہے۔مگر یہاں ہمارے مخالف بھی رُوحانی زندگی مراد لیتے ہیں لیکن جب حضرت عیسی کے متعلق اسی قسم کے الفاظ آتے ہیں تو وہاں حقیقی مردوں کا زندہ کرنا مراد لے لیا جاتا ہے افسوس صد افسوس کہ ہمارے مولوی صاحبان نے مسیح ناصری کی عزت کو شرک کی حد تک پہنچارکھا ہے اور اس کے مقابلے پر اپنے آقا کی عزت کی بھی پروا نہیں کی۔ہمارے مخالف جب اس بات میں بھی تنگ آجاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف مردوں کا اسی دنیا میں زندہ ہو جانا ممتنع قرار دے دیتا ہے تو پھر کہتے ہیں کہ بے شک خدا کی عام سنت یہی ہے کہ مُردے دوبارہ زندہ ہو کر اس دنیا میں نہیں آتے لیکن کیا خدا قادر نہیں کہ مسیح " اگر مر بھی گیا ہے تو اس کو زندہ کر کے اس دنیا میں لے آوے؟ اب دیکھو کہ یہ بھی کوئی دلیل ہے؟ کون انکار کرتا ہے کہ خدا قادر نہیں ہے۔مگر سوال تو یہ ہے کہ کسی امر میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ واقعی وہ بات وقوع میں بھی آگئی ہے۔غور کرو کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کر کے دوبارہ دنیا میں لے آوے تو کیا اس سے ثابت ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ زندہ ہوکر آجائیں گے؟ پھر کیا خدا قادر نہیں کہ اسی وقت قیامت آجاوے تو کیا اس سے ثابت ہو گیا کہ اس وقت قیامت آ بھی گئی؟ ایسی