الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 56
۵۶ الحُجَّةُ البَالِغَةُ تمام نیکوکاروں کا وفات کے بعد رفع ہوا کرتا ہے۔پھر یہی نہیں بلکہ مسیح کے اپنے منہ سے اقرار کروا دیا کہ بھائیو مجھے خواہ خواہ زندہ کیوں مان رہے ہو میں تو اپنی امت کے بگڑنے سے پہلے کا فوت ہو چکا ہوں۔پھر اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ بھی فرما دیا کہ دیکھو جتنے نبی آنحضرت سے پہلے گزرے ہیں وہ سب فوت ہو چکے ہیں۔پھر رسول اللہ صلی یتیم کی حدیث مسیح" کی عمر بھی بتا رہی ہے کہ ایک سو بیس سال ہوئی اور پھر صاف الفاظ میں کہہ رہی ہے کہ اگر عیسی “ اور موسیٰ “ زندہ ہوتے تو وہ بھی نبی کریم کی اتباع کرنے پر مجبور ہوتے۔ان صاف دلیلوں کے ہوتے ہوئے پھر بھی اگر کوئی شخص اپنی ضد کو نہیں چھوڑتا تو اسے اختیار ہے ہم نے اپنی طرف سے اتمام حجت کر دیا اب ایسے لوگوں کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔باب سوئم فوت شدہ لوگ دوبارہ زندہ ہو کر اس دنیا میں واپس نہیں آتے ) بعض لوگ جب مسیح کی وفات کا ذکر گھلا گھلا قرآن شریف اور احادیث میں پاتے ہیں تو پھر وہ یہ پہلو اختیار کرتے ہیں کہ کیا ہوا اگر مسیح فوت ہو گیا خدا اسے زندہ کر کے دنیا میں دوبارہ لے آئے گا۔اس کے جواب میں یا درکھنا چاہئے کہ مُردوں کا دوبارہ زندہ ہو کر اس دنیا میں آجانا اسلامی تعلیم اور سنت الہیہ کے سراسر خلاف ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے فرماتا ہے :- ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ تُبْعَثُونَ (سوره مومنون رکوع اول)