الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 55 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 55

الحُجَّةُ البَالِغَةُ یعنی عیسی بن مریم “ ایک سو بیس سال زندہ رہے تھے۔(طبرانی و مستدرک حاکم) یہ حدیث تو کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں چھوڑتی بلکہ مسیح" کی عمر کی تعین کر کے صاف طور پر ان کی موت پر دلالت کر رہی ہے اور اس بحث کو آگے چلانے کی ضرورت باقی نہیں رہنے دیتی مگر ہمارا مطلب تو حتی الوسع تسلی کرانا ہے اس لئے اور لیجئے۔آنحضرت فرماتے ہیں:- لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيْسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِى ( تفسیر ابن کثیر جلد ۲ ص۲۴۶) و یعنی اگر موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اطاعت کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔سبحان اللہ اس حدیث نے تو حد ہی کر دی۔مسیح کی وفات پر ہزار سورج چڑھا دیا اور اس مسئلے کے کسی دور سے دور گوشہ میں بھی تاریکی نہیں رہنے دی لیکن اسی پر بس نہیں معراج کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے کہ جب میں دوسرے آسمان پر گیا تو میں نے وہاں بیچی اور عیسی علیہ السلام کو دیکھا۔(بخاری ومسلم ) اب یہ سب کے نزدیک مسلم امر ہے کہ حضرت یحیی فوت ہو چکے ہیں اور ان کی روح اس جسم عنصری سے الگ ہو چکی ہے اس لئے ثابت ہوا کہ مسیح بھی فوت شدہ ہیں کیونکہ مردوں میں وہی شخص رہتا ہے جو کہ خود فوت شدہ ہو ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ مردوں کے اندر ایک زندہ کو رکھ دیا جاوے۔اب آپ نے دیکھا کہ کسی وضاحت کے ساتھ قرآن شریف اور احادیث صحیحہ مسیح کو مُردہ ثابت کر رہے ہیں۔اس سے زیادہ اور کیا ہوگا کہ قرآن شریف نے صاف الفاظ میں بتادیا کہ مسیح آسمان پر نہیں اُٹھایا گیا بلکہ اس کا رفع انہی معنوں میں ہوا جن معنوں میں کہ