الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 54
۵۴ الحُجَّةُ البَالِغَةُ یعنی جن لوگوں کے دل میں کبھی ہے وہی متشابہ آیات کے پیچھے لگتے ہیں۔مگر آپ نے دیکھا کہ ہم نے تو بفضل خدا اس کے تشابہ کو بھی ایسا اُڑا دیا ہے کہ اب یہ آیت بھی محکمات میں سے نظر آتی ہے۔جس کی آنکھ ہود یکھے۔حدیث سے وفات مسیح کا ثبوت مندرجہ بالا بیان سے ناظرین نے یہ بخوبی سمجھ لیا ہوگا کہ قرآن شریف عیسی علیہ السلام کی حیات کے مسئلے کو دُور سے ہی دھکے دے رہا ہے۔اور گو آیت مَن أَصْدَقُ من الله قبلاً اس بات کی ضرورت باقی نہیں چھوڑتی کہ اس مسئلے کے متعلق حدیث سے بھی گواہی تلاش کی جاوے لیکن ناظرین کی مزید تسلی کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حدیث سے بھی مسیح کی وفات کا کچھ ثبوت دے دیا جاوے تا شک کی کوئی گنجائش نہ رہے۔سو واضح ہو کہ حدیث میں نبی کر یم سلیم فرماتے ہیں کہ :- مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ حَيَّةٌ (صحیح مسلم) یعنی تمام وہ لوگ جو آج زندہ ہیں وہ ایک سو سال گزرنے کے بعد زندہ نہ رہیں گے۔“ یہ حدیث بڑی صفائی کے ساتھ مسیح" پر فاتحہ خوانی کر رہی ہے۔ظاہر ہے کہ اگر مسیح اب بھی زندہ ہے تو ضرور ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت بھی زندہ ہوگا اور اگر وہ اس وقت زندہ تھا تو یقینا وہ سو سال کے اندر اندر فوت ہو گیا ہوگا۔پھر اسی پر بس نہیں اور لیجئے۔ایک اور حدیث میں نبی کریم سالی پیام فرماتے ہیں کہ :- إِنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَاشَ عِشْرِينَ وَمِائَةَ سَنَةٍ