الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 53 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 53

۵۳ الحُجَّةُ البَالِغَةُ موتھ موجود ہے جو بموجب اصول محدثین کے حکم صحیح حدیث کا رکھتی ہے یعنی ایسی حدیث جو آنحضرت صلی ای ایم سے ثابت ہے تو اس صورت میں محض ابو ہریرہ کا اپنا قول رڈ کرنے کے لائق ہے کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے مقابل پیچ اور لغو ہے اور اس پر اصرار کرنا کفر تک پہنچا سکتا ہے۔اور پھر صرف اسی قدر نہیں بلکہ ابو ہریرہ کے قول سے قرآن شریف کا باطل ہونا لازم آتا ہے کیونکہ قرآن شریف تو جا بجا فرما تا ہے کہ یہود و نصاریٰ قیامت تک رہیں گے ان کا بکلی استیصال نہیں ہوگا اور ابو ہریرہ کہتا ہے کہ یہود کا استیصال بکلی ہو جائے گا اور یہ سراسر مخالف قرآن شریف ہے جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے اُس کو چاہئے کہ ابو ہریرہ کے قول کو ایک رڈی متاع کی طرح پھینک دے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۲۳۴ صفحه ۲۳۵) پس یہ یقینی امر ہے کہ آیت زیر بحث میں موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے نہ کہ عیسی کی طرف۔اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ موتہ کی ضمیر عیسی" کی طرف راجع نہیں ہوتی تو خواہ بالفرض یہ کی ضمیر عیسی “ ہی کی طرف پھیر دی جاوے اور آیت کے کوئی سے بھی معنی کر لئے جاویں تو بھی اس آیت سے یہ ہرگز نہیں ثابت ہوسکتا کہ مسیح زندہ ہے۔وھو المراد۔تعجب ہے کہ جن آیتوں کو خود ہمارے مخالف متشابہات میں مانتے ہیں اور گزشتہ مفسرین نے بھی ان کے معنوں میں ایک دوسرے سے بڑا اختلاف کیا ہے ان پر ایسے مہتم بالشان مسائل کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور محکمات کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔مگر معلوم رہے کہ یہ کن لوگوں کا کام ہے۔سنئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ (سوره آل عمران آیت : 8)