الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 52
۵۲ یعنی یہود اور نصاریٰ میں قیامت تک دشمنی رہے گی۔“ الحُجَّةُ البَالِغَةُ اب انصاف کا مقام ہے کہ ہم آیت زیر بحث کا کس طرح یہ ترجمہ قبول کر لیں کہ کوئی وقت ایسا آنے والا ہے کہ تمام کے تمام یہودی مسیح پر ایمان لے آئیں گے اور وہ اور نصاری ایک ہو جائیں گے۔بعض علماء اس آیت کے متعلق کہا کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ نے بھی اس کے وہی معنی کئے ہیں جو آج کل کے مولوی کرتے ہیں۔اس کے جواب میں حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں:۔موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے نہ کہ حضرت عیسی کی طرف اسی وجہ سے اس آیت کی دوسری قرأت میں موتهم واقع ہے۔اگر حضرت عیسی کی طرف یہ ضمیر پھرتی تو دوسری قرأت میں موتھم کیوں آتا؟ دیکھو تفسیر ثنائی کہ اس میں بڑے زور سے ہمارے اس بیان کی تصدیق موجود ہے اور اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہی معنی ہیں مگر صاحب تفسیر لکھتا ہے کہ ابو ہریرہ فہم قرآن میں ناقص ہے اور اس کی درایت پر محدثین کو اعتراض ہے۔ابو ہریرہ میں نقل کرنے کا ماڈہ تھا اور درایت اور فہم سے بہت ہی کم حصہ رکھتا تھا۔اور میں کہتا ہوں کہ اگر ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایسے معنی کئے ہیں تو یہ اُس کی غلطی ہے جیسا کہ اور کئی مقام میں محدثین نے ثابت کیا ہے کہ جو امور فہم اور درایت کے متعلق ہیں اکثر ابو ہریرہ اُن کے سمجھنے میں ٹھوکر کھاتا ہے اور غلطی کرتا ہے۔یہ مسلم امر ہے کہ ایک صحابی کی رائے شرعی حجت نہیں ہو سکتی۔شرعی حجت صرف اجماع صحابہ ہے۔سو ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس بات پر اجماع صحابہ ہو چکا ہے کہ تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں اور یاد رکھنا چاہئے کہ جبکہ آیت قَبْلَ مَوْتِهِ کی دوسری قرأت قبل