الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 44
۴۴ الحُجَّةُ البَالِغَةُ نبی کریم صلی یتم فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میں وہی کہوں گا جو ایک نیک بندہ عیسی بن مریم نے کہا کہ :- كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنْتَ الرَّقِيبٌ عَلَيْهِمُ یعنی جب تک میں ان کے درمیان رہا میں ان کی نگرانی کرتا رہا۔لیکن پھر جب اے خدا تو نے مجھ کو وفات دے دی تو پھر تو ہی ان کو دیکھنے والا تھا۔( بخاری کتاب التفسیر ) دیکھئے ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی الفاظ اپنے متعلق استعمال کئے جو حضرت عیسی نے کئے۔اب یہ ظاہر ہے کہ نبی کریم آسمان پر نہیں اُٹھائے گئے بلکہ موت نے ہی آپ کو آپ کے متبعین سے الگ کیا تھا۔یہی معنی عیسی کے متعلق لینے چاہئیں۔نیز غور کرو کہ کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حال عیسی ابن مریم کے حال سے مشابہ قرار دیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ جس طرح عیسی بن مریم اپنی لا علمی ظاہر کرے گا اسی طرح میں بھی اپنی لاعلمی ظاہر کروں گا۔اور یہ اوپر بتایا جا چکا ہے کہ اگر مسیح ناصری آخری زمانے میں نازل ہو تو پھر وہ ضرور اپنی اُمت کے بگڑ جانے سے قیامت سے پہلے ہی واقف ہو جائے گا اس لئے اس کے لئے قیامت کے دن اپنی لاعلمی ظاہر کرنا ایک سیاہ جھوٹ ہے۔کیا مسیح کے متبعین میں سے کوئی شخص اس وقت اُٹھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ ”اے خدا تیرے اس پیغامبر نے ایک ایسا جھوٹ بولنے کی جرات کی ہے جس پر قریب ہے کہ زمین و آسمان پھٹ جاویں۔یہ آخری زمانے میں دوبارہ دُنیا میں آیا اور اس نے ہم کو اس کی خدائی مانتے اور لوگوں سے منواتے دیکھا جس کی وجہ سے اس نے ہمارے خلاف جنگ کی اور چالیس سال تک اس نے زمین