الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 43
۴۳ الحُجَّةُ البَالِغَةُ آخری زمانے میں قیامت سے پہلے نازل ہوگا تو پھر اس کے ساتھ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ قیامت سے پہلے ہی اپنی امت کے بگڑ جانے سے واقف ہو جائے گا اور اسے معلوم ہو جائے گا کہ میری امت مجھ کو خدا بنارہی ہے تو اس صورت میں وہ کس طرح اپنی ناواقفیت کا اظہار کر سکتا ہے۔یقیناً مسیح کی طرف سے یہ نعوذ باللہ ایک سیاہ جھوٹ ہوگا اگر وہ باوجود علم رکھنے کے پھر لاعلمی کا اظہار کرے۔ایک گندے سے گندہ آدمی بھی خدا کے حضور ایسے صریح جھوٹ کی جرات نہیں کر سکتا تو پھر مسیح“ جو ایک خدا کا پیارا بندہ اور اس کا رسول تھا وہ کس طرح ایسا صریح جھوٹ بولے گا۔فافهم وتدبّر ولا تكن من الممترين۔حدیث میں اس آیت کی تفسیر ایک حدیث بھی اس آیت کے معنوں کو روز روشن کی طرح ظاہر کر دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں حوض کوثر پر کھڑا ہوں گا اور اپنے متبعین کو اس مبارک چشمے کا پانی تقسیم کر رہا ہوں گا اچانک لوگوں کا ایک گروہ میرے سامنے آئے گا جن کو فرشتے دوسری طرف دھکیلے لئے جارہے ہوں گے میں ان کو دیکھ کر چلا اٹھوں گا۔اصیحابی اصیحابی یعنی یہ تو میرے صحابہ ہیں، یہ تو میرے صحابہ ہیں۔اس پر فرشتے کہیں گے:۔إِنَّكَ لَا تَدْرِى مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمُ - یعنی آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کچھ کیا۔یہ تو آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل پھر گئے تھے۔“