الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 38 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 38

۳۸ الحُجَّةُ البالغة مُمِيتُكَ حَتْفَ أَنْفِكَ د یعنی میں تجھے تیری طبعی موت سے وفات دوں گا۔“ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ مُتَوَفِّيكَ کے معنی حمیت کے ہیں یعنی میں تمہیں وفات دوں گا۔( بخاری کتاب التفسیر ) پس یہ بات یقینی ہے کہ آیت زیر بحث میں إِنِّي مُتَوَفِّيكَ کے معنی صرف یہی ہیں کہ میں تجھ کو وفات دوں گا۔اس میں شک نہیں کہ چونکہ توفی کے اصل معنی قبض روح کے ہیں جو ایک حد تک نیند میں بھی ہوتا ہے اس لئے تو قی کا لفظ بعض اوقات صرف نیند کے وقت قبض روح کرنے کے معنی بھی دیتا ہے مگر ان معنوں کے لئے کسی قرینہ کا ہونا لازمی ہوتا ہے ورنہ جب یہ لفظ بغیر قرینہ کے استعمال ہو اور خدا فاعل ہو اور انسان مفعول یہ ہو تو لا محالہ اس کے معنی وفات دینے کے ہی ہوتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب بانی سلسلہ احمدیہ نے مخالف مولویوں کو چیلنج دیا تھا کہ وہ قرآن شریف یا حدیث یا عرب کی کسی مستند کتاب میں یہ دکھا دیں کہ جب خدا فاعل ہو اور کوئی مذکور انسان مفعول یہ ہو تو توقی کے معنی قبض روح کے سوا کوئی اور مراد ہوں مگر آج تک کوئی مخالف مولوی اس کا جواب نہیں دے سکا۔علاوہ ازیں خود آیت زیر بحث بھی مُتوفِّيكَ کے معنی صاف بتا رہی ہے کیونکہ اگر مُتَوَفِّيكَ کے معنی یہ ہیں کہ پورا اُٹھا لینا تو رافِعُكَ کا لفظ الگ ذکر کرنے سے کیا