الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 37
۳۷ الحُجَّةُ البَالِغَةُ اور کتاب عینی تفسیر بخاری میں اس قول کا اسناد بیان کیا ہے۔۔۔۔۔احادیث میں جہاں کہیں تو فی کا لفظ کسی صیغہ میں آیا ہے اس کے معنی مارنا ہی آیا ہے جیسا کہ محدثین پر پوشیدہ نہیں اورعلم لغت میں یہ مسلم اور مقبول اور متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول یہ ہے وہاں بجز مارنے کے اور کوئی معنی توفی کے نہیں آتے۔تمام دواوین عرب اس پر گواہ ہیں۔اب اس سے زیادہ ترک انصاف کیا ہوگا کہ قرآن بلند آواز سے فرمارہا ہے کوئی نہیں سنتا۔حدیث گواہی دے رہی ہے کوئی پروا نہیں کرتا۔علم لغت عرب شہادت ادا کر رہا ہے کوئی اس کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا۔دواوین عرب اس لفظ کے محاورات بتلا ر ہے ہیں کسی کے کان کھڑے نہیں ہوتے۔(تحفہ گولڑویہ صفحہ ۴) مزید تسلی کے لئے لغت ملاحظہ ہو، چھوٹی موٹی لغت کی گواہی تو ہمارے مولوی صاحبان شاید ٹال دیں اس لئے ہم سب سے بڑی اور مشہور و مستند کتاب تاج العروس کو شہادت میں پیش کرتے ہیں۔تاج العروس میں لکھا ہے:۔" تَوَفَّاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا قَبَضَ نَفْسَهُ۔یعنی توفاه اللہ کے یہ معنی ہیں کہ اللہ نے اس کی روح قبض کر لی۔“ اور یہ بھی لکھا ہے:۔تُوفِّي فُلَانٌ: إِذَا مَاتَ یعنی توی فُلان کے یہ معنی ہیں کہ فلاں شخص مر گیا۔“ پھر علامہ زمخشری مصنف تفسیر کشاف متوفيك كے معنی لکھتے ہیں :