الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 36
الحُجَّةُ البَالِغَةُ رکھی ہے اس کو قبول کریں اور اپنی طرف سے ایک نیا قرآن نہ بنا ئیں۔پس چونکہ پچھلے تین وعدے مسلمہ طور پر پورے ہو چکے ہیں اس لئے لامحالہ ماننا پڑا کہ پہلا وعدہ جو مسیح کی وفات کے متعلق ہے وہ بھی پورا ہو چکا ہوگا۔ضمناً یہ آیت رفع کے معنی بھی واضح کر رہی ہے کیونکہ رفع کا وعدہ وفات کے وعدے کے بعد اللہ نے رکھا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ اس جگہ رفع انہی معنوں میں ہے جو آیت يَا يَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ میں بیان کئے گئے ہیں۔یعنی جس طرح موت کے بعد نیک ارواح کا اللہ کی طرف رفع ہوا کرتا ہے بد ارواح کا اللہ کی طرف رفع نہیں ہوتا۔انہی معنوں میں مسیح کا رفع ہوا۔لفظ مُتَوَفِّيكَ کے معنی اس آیت کے متعلق بعض مخالف کہا کرتے ہیں کہ اس میں جو لفظ مُتَوَفِّيكَ واقع ہوا ہے اس کے معنی قبض روح یعنی وفات دینے کے نہیں ہیں بلکہ سارے کا سارا اُٹھا لینے کے ہیں۔اس کے جواب میں پیشتر اس کے کہ میں لغت کے حوالے سے توفی کے معنی ظاہر کروں حضرت مرزا صاحب کی ایک تحریر نقل کئے دیتا ہوں جس میں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کے تیئیس (۲۳) مقامات میں لفظ توفی کو قبض روح کے موقع پر استعمال کیا ہے۔اوّل سے آخر تک قرآن شریف میں کسی جگہ لفظ توفی کا ایسا نہیں جس کے بجر قبض روح اور مارنے کے اور معنی ہوں اور پھر ثبوت پر ثبوت یہ کہ صحیح بخاری میں ابن عباس سے مُتَوَفِّيكَ کے معنی ممی لکھتے ہیں۔ایسا ہی تفسیر فوز الکبیر میں بھی یہی معنی مندرج ہیں