الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 35 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 35

۳۵ الحُجَّةُ البَالِغَةُ نہیں ہوا تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ اس صورت میں اس وعدے کے ایفا کا وقت بہر حال آخری وعدے کے بعد آئے گا کیونکہ آخری تین وعدے پورے ہو چکے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ آخری وعدہ کا دامن قیامت تک پھیلا ہوا ہے جیسا کہ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ کے الفاظ سے ظاہر ہے۔تو گویا قیامت تک تو حضرت مسیح پر موت آتی نہیں اور جب قیامت آئے گی اور دنیا بھر کے مُردے قبروں سے اُٹھائے جائیں گے اُس وقت مسیح کی روح قبض کی جائے گی۔مگر اس میں ایک اور مشکل کا سامنا ہے اور وہ یہ کہ قیامت کا دن تو زندہ کرنے کا دن ہے نہ کہ مارنے کا تو گویا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت مسیح موت کے پنجے سے بالکل ہی چھوٹ گئے۔چلو فیصلہ ہوا۔اس مضمون پر حضرت مرزا صاحب" تحریر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : توفی کا لفظ اگر آیت کے سر پر سے اٹھا دیا جاوے تو اس کو کسی دوسرے مقام میں قیامت سے پہلے رکھنے کی کوئی جگہ نہیں۔سو اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام قیامت کے بعد مریں گے اور پہلے مرنے سے یہ ترتیب مانع ہے۔اب دیکھنا چاہئے کہ قرآن شریف کی یہ کرامت ہے کہ ہمارے مخالف یہودیوں کی طرح قرآن شریف کی تحریف پر آمادہ تو ہوئے مگر قادر نہیں ہو سکے اور کوئی جگہ نظر نہیں آتی جہاں فقرہ رَافِعُكَ کو اپنے مقام سے اُٹھا کر اس جگہ رکھا جاوے۔ہر ایک جگہ کی خانہ پری ایسے طور ،، سے ہو چکی ہے کہ دست اندازی کی گنجائش نہیں۔“ ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ) الغرض ہم مجبور ہیں کہ جو ترتیب اللہ تعالیٰ نے جو حکیم اور علیم ہے قرآنی الفاظ کی