الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 34 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 34

۳۴ الحُجَّةُ البالغة يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ د یعنی وہ بد بخت لوگ الہی کلام میں دست برد کرتے اور الفاظ کو اپنی جگہ سے الٹ پلٹ کر دیتے تھے۔“ مگر ہائے افسوس کہ آج مسلمانوں نے بھی وہی کیا جو یہودی لوگ کیا کرتے تھے اور صرف حضرت مرزا صاحب کی مخالفت کی وجہ سے کہہ دیا کہ دراصل اس آیت میں رَافِعُكَ پہلے رکھنا چاہئے اور مُتَوَفِّيكَ بعد میں رکھنا چاہئے تا کہ کسی طرح مسیح زندہ ثابت ہو جائے لیکن کم از کم بعض مفسرین نے اور آج کل کے مولویوں کی اس کوشش نے ہم کو یہ واضح طور پر بتا دیا کہ مُتَوَفِّيكَ کے معنی دراصل ان کے نزدیک بھی وفات دینے کے ہی ہیں ورنہ تقدیم تاخیر کی کوشش کے کیا معنی؟ چونکہ ان کا دل کہتا ہے که مُتَوَفِّيكَ کے معنی مارنے کے ہی ہیں اس لئے وہ تقدیم تاخیر کی آڑ لے کر تاویل کرنا چاہتے ہیں۔بہر حال اب معاملہ بالکل صاف ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی سے وعدہ کیا کہ وہ اس کو وفات دے گا اور اس کو اپنی طرف اٹھائے گا اور اس کو کافروں کے الزامات سے پاک کرے گا اور اس کے متبعین کو قیامت کے دن تک اس کے منکرین پر غالب رکھے گا۔ہمارے مخالف یہ مانتے ہیں کہ دوسرا وعدہ جو مسیح کے رفع سے تعلق رکھتا ہے وہ پورا ہو چکا اور خدا نے مسیح کو اپنی طرف اٹھا لیا اور تیسرے وعدے کے مطابق قرآن شریف کے ذریعے اللہ نے یہود کے الزامات سے میسیج کو پاک بھی ثابت کر دیا اور بالآخر چوتھے وعدے کے مطابق مسیح کے متبعین کو اس کے منکرین پر غلبہ بھی حاصل ہو گیا مگر تعجب ہے کہ تا حال سب سے پہلا وعدہ یعنی وفات والا وعدہ پورا نہیں ہوا۔لیکن لطف یہ ہے کہ اگر یہ تسلیم کر لیا جاوے کہ پہلا وعدہ ابھی پورا