الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 30 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 30

الحُجَّةُ البَالِغَةُ اور ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ناصری بھی ایک رسول تھے جو چھ سوسال نبی کریم مایا یہ کیم سے پہلے مبعوث کئے گئے تھے۔پس لا محالہ ماننا پڑا کہ وہ بھی فوت ہو چکے ہیں۔اگر اس آیت پر یہ اعتراض کیا جائے کہ خلا کے معنی صرف گزر جانے کے ہیں لہذا اس آیت سے یقینی طور پر موت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ اگر ایک شخص زندہ آسمان پر اُٹھا لیا جاوے تو اس کی نسبت بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ نہیں رہا اور گزر گیا ہے تو اس اعتراض کے جواب میں دو باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔اول یہ کہ عربی زبان میں خلا کے معنی مات ( یعنی وہ مر گیا ) کے بھی آتے ہیں۔چنانچہ تاج العروس جو لغت عربی کی سب سے بڑی اور نہایت مستند کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ :- خَلَافُلَانٌ : إِذَا مَاتَ و یعنی جب کوئی شخص مرجاوے تو کہتے ہیں کہ خلا فلان یعنی فلاں شخص دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ خود اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خلا کے معنوں کی تعیین کر دی ہے جیسا کہ فرمایا :- أَفَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ یعنی اگر محمد رسول اللہ طبعی موت سے مر جاویں یا قتل کر دیئے جاویں۔“ تو گویا اس جگہ لفظ خلت کے معنی لازمی طور پر ان دوصورتوں میں سے ایک کے ہونے چاہئیں یعنی یا تو یہ کہ وہ طبعی موت سے مر گئے اور یا وہ قتل ہوئے۔یہ الفاظ کہ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ صاف بتا رہے ہیں کہ گزشتہ انبیاء کا گزر جانا انہی دوصورتوں میں سے کسی ایک میں ہوا تھا۔یعنی یا تو وہ طبعی موت سے وفات پاتے رہے اور یا پھر قتل