الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 21
۲۱ الحُجَّةُ البَالِغَةُ علیہ السلام کے ہمدردوں اور دوستوں کی کوشش کہ مسیح علیہ السلام کسی طرح بچ جاوے(۱۱) ان کا اسے صلیب پر سے اُتارنے کے بعد اس کے جسم کو حکومت سے مانگنا اور اسے ایک ہوادار اور غار نما کھلی قبر میں رکھنا (۱۲) اس کے جسم سے برچھی مارنے پر خون کا نکلنا (۱۳) مسیح علیہ السلام کے متعلق راز داری کے لئے پہرہ داروں کو رشوت دیا جانا (۱۴) مسیح علیہ السلام کا واقعہ صلیب کے بعد خفیہ طور پر قبر سے غائب ہونا اور اپنے بعض حواریوں سے ملنا اور انہیں اپنے زخم دکھانا اور ادھر ادھر آتے جاتے دیکھا جانا (۱۵) ایک مرہم کا موجود ہونا جو صدیوں سے طب کی کتابوں میں مرہم عیسی کے نام سے مشہور چلی آتی ہے اور جو اس کے زخموں کو لگائی گئی تھی (۱۶) اور پھر مسیح علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لئے بھیجا گیا ہوں جس کی وجہ سے اس کا افغانستان اور کشمیر کی طرف جانا ضروری تھا جہاں بنی اسرائیل کے بہت سے قبیلے آباد تھے وغیرہ وغیرہ۔یہ سب باتیں صاف صاف بتارہی ہیں کہ انجیل کی رو سے بھی ہرگز یہ نہیں ثابت ہوتا کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر مرا ہو بلکہ حق یہی ہے کہ وہ زخموں کی شدید تکلیف کی وجہ سے ایک گہری غشی کی حالت میں تھا لیکن جب اس کی اچھی طرح خبر گیری کی گئی تو وہ صحت یاب ہو گیا اور خفیہ طور پر اپنے ملک سے ہجرت کر کے بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں دوسرے ملک کی طرف نکل گیا۔آیت زیر بحث میں جو شُبَهَ لَهُمْ کے الفاظ ہیں ان کے یہ معنی کرنا کہ کوئی اور شخص مسیح کے ہم شکل بنادیا گیا تھا بالکل غلط بلکہ مضحکہ خیز ہے۔اول تو یہ صریح ظلم ہے کہ