الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 20 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 20

الحُجَّةُ البالغة میں یہ لکھا ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جائے گا اور یہ بھی لکھا ہے کہ وہ جو صلیب پر لٹکا کر مارا جاتا ہے وہ خدا کا ملعون ہے۔پھر یہود اور عیسائیوں کی متفقہ شہادت موجود ہے کہ بہر حال مسیح کو صلیب پر لٹکایا ضرور گیا اور یہی دو قومیں ہیں جو اس معاملے میں اصل شاہد ہوسکتی ہیں۔آگے اس بات کے فیصلہ میں کہ مسیح صلیب پر مرا یا کہ نہیں مرا قرآن شریف کی صاف گواہی موجود ہے کہ وہ نہیں مرا اور خود انجیل سے بھی بغور مطالعہ کے نتیجہ میں یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرا مگر اس تفصیل کی گنجائش نہیں ہے صرف مختصر طور پر اتنا یاد رکھنا چاہئے کہ (۱) مسیح علیہ السلام کا صلیب پر صرف دو چار گھنٹے رہنا جو عام حالات میں ایک تندرست اور جوان انسان کے مرنے کے لئے کافی نہیں تھا (۲) صلیب پر سے اترنے کے بعد اس کی حسب دستور ہڈیاں نہ توڑی جانا جب کہ اس کے ساتھ کے دو مصلوب مجرموں کی ہڈیاں توڑی گئیں (۳) اس وقت روئے زمین پر سخت اندھیرا چھا جانا اور خطرناک زلزلہ کا آنا (۴) پلاطوس رومی حاکم کی بیوی کی خواب کہ مسیح علیہ السلام بے گناہ ہے اسے چھوڑ دیا جاوے (۵) اگلا دن سبت کا دن ہونا جب کہ شریعت کی رو سے صلیب پر کوئی مجرم نہ رکھا جا سکتا تھا (۶) پلاطوس کی مسیح علیہ السلام کو چھوڑ دینے کی خواہش (۷) خود مسیح کی عاجزی اور تضرع سے خدا کے حضور دعائیں کرنا کہ یہ پیالہ اس سے مل جاوے (۸) پلاطوس کا مسیح علیہ السلام کی مزعومہ وفات کے متعلق شبہ کرنا (۹) مسیح علیہ السلام کا اپنے آپ کو یونس نبی کے ساتھ مشابہ قرار دینا جو تین دن مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہ کر آخر زندہ ہی باہر نکل آیا تھا (۱۰) مسیح