الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 8 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 8

الحُجَّةُ البَالِغَةُ میں سے ایک گروہ اسی طرف گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج جسم عصری کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ وہ ایک لطیف کشف تھا جس میں آپ کی اور آپ کی اُمت کی آئندہ ترقیات کے نظارہ کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی۔ہاں بعض مسلمانوں نے بے شک معراج کو جسم عنصری کے ساتھ مانا ہے مگر قرآن شریف اور احادیث صحیحہ اس خیال کی بڑی صفائی کے ساتھ تردید کرتی ہیں۔اول تو مندرجہ بالا آیت ہی ( یعنی آیت هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا ) اس خیال کو دھکے دے رہی ہے۔اگر بجسم عصری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آسمان پر جا سکتے تھے تو آپ نے کیوں کفار مکہ کونفی میں جواب دے کر اسلام لانے سے محروم کر دیا ؟ اگر معراج جسم عصری کے ساتھ ہوا تھا تو معمولی بات تھی کفار کے مطالبہ پر ان کو یہ معجزہ دکھایا جاتا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بوجہ بشر ہونے کے اپنا آسمان پر جسم عنصری کے ساتھ جانا متنع قرار دیا۔اس سے ظاہر ہے کہ معراج جسم عصری نہیں ہوا۔علاوہ اس کے قرآنِ شریف میں معراج کو رؤیا کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ فرمایا:- وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ (سورہ بنی اسرائیل رکوع ۶ ) یعنی ہم نے جو رؤیا تجھے دکھائی ہے وہ لوگوں کے لئے ایک امتحان کے طور پر ہے۔“ پھر حضرت عائشہ سے روایت آتی ہے کہ معراج کی رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک زمین سے جدا نہیں ہوا ( سیرۃ ابن ہشام جلد ۱) جس سے ثابت ہوتا ہے کہ معراج جسم عصری نہ تھا بلکہ آپ کوکوئی اور لطیف جسم عطا کیا گیا تھا جیسا کہ کشف