الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 7 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 7

الحُجَّةُ البَالِغَةُ ہستی نہیں ثابت ہوتا؟ کیا ایک عیسائی مسلمانوں کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب قرآن میں تمہارے نبی آسمان پر زندہ جانے کے راستہ میں صرف اپنی بشریت کو بطور روک کے بیان کرتے ہیں تو کیا مسیح “ جو تمہارے نزد یک آسمان پر زندہ بجسم عنصری جا پہنچا وہ تمہارے نبی سے افضل بلکہ انسان سے کوئی بالا ہستی نہ ثابت ہوا؟ اس کا جواب مسلمانوں کے پاس سوائے شرمندگی کے اور کیا ہے؟ افسوس مسلمانوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اسلام میں ارتداد کا رستہ کھولا اور اپنے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت پر خود اپنے ہاتھ سے تبر چلا یا کسی نے سچ کہا ہے کہ ؎ من از بیگانگاں ہرگز نہ نالم که با من هر چه کرد آں آشنا کرد یعنی میں دوسروں کا گلا نہیں کرتا مجھ سے تو جو کچھ کیا ہے میرے اپنے دوستوں نے ہی کیا ہے۔“ معراج کی حقیقت اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آسمان پر زندہ جسم عنصری جانے کو بوجہ آپ کے ایک بشر ہونے کے ممتنع قرار دیتا ہے تو پھر معراج کے موقع پر نبی کریم کس طرح آسمان پر جا پہنچے؟ اس کے جواب میں اچھی طرح یا درکھنا چاہیے کہ حضرت نبی کریم کا معراج جسم عصری کے ساتھ نہیں ہوا تھا بلکہ وہ ایک نہایت لطیف قسم کا کشف تھا جو نبی کریم کو دکھایا گیا اور جس طرح خواب میں بعض وقت انسان باوجود اپنی چار پائی پر لیٹا ہونے کے دور دراز ملکوں کی سیر کر لیتا ہے اسی طرح اس کشف کی حالت میں ہوا۔خود سلف صالحین