الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 60
۶۰ الحُجَّةُ البَالِغَةُ دلیلیں سُن کر اس زمانے کے مولویوں کی عقل و خرد پر رونا آتا ہے کہ ان کی حالت کیسی گر چکی ہے۔بھائیو! خدا کی قدرت اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ جس چیز پر اس کو قدرت ہے وہ واقعہ میں ہو بھی گئی۔اس کا وقوع توتب ثابت ہو کہ تم اس بات کی دلیل دو کہ بعد میں خدا نے اس معاملے میں اپنی سنت کو ترک کر کے اپنی خاص استثنائی قدرت کو استعمال کیا۔ہم اسی بات کو تو ثابت کر رہے ہیں کہ باوجود اس کے کہ خدا مردوں کو زندہ کر کے اس دنیا میں واپس لانے پر قادر ہے پھر بھی اس نے اپنی یہ سنت مقرر کر رکھی ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتا۔پھر یہ بھی غور کرو کہ اگر خدا کی قدرت پر ہی فیصلہ کرنا ہے تو کیا خدا اس بات پر قادر نہیں کہ اسی اُمت میں سے مسیح کو پیدا کر دے۔بلکہ غور کرو تو خدا کی قدرت کا زیادہ جلوہ اس بات میں ہے کہ اسی امت میں سے مسیح موعود پیدا کرے نہ کہ پہلے مسیح کو دوبارہ لائے۔ایک چیز کو سنبھال سنبھال کر رکھنے کی صرف اس شخص کو ضرورت پیش آتی ہے جو ڈرتا ہے کہ اگر یہ چیز ضائع ہوگئی تو پھر میسر آنی مشکل ہو جائے گی اور میں اس کی مثل نہیں بنا سکوں گا لیکن جو شخص قادر ہوتا ہے وہ اپنی سنت کے خلاف چیزوں کو سنبھال سنبھال کر نہیں رکھتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب ضرورت ہوگی میں ایسی بیسیوں چیزیں پیدا کرلوں گا۔غرض خدا کی قدرت کا جلوہ تو زیادہ اس بات میں ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کوئی نیا مسیح بنا کر اس اُمت میں بھیجے نہ کہ پہلے مسیح کو ہی دو ہزار سال محفوظ رکھ کر واپس بھیج دے۔پھر میں کہتا ہوں کہ اگر خدا نے کسی فوت شدہ کو ہی زندہ کر کے دوبارہ بھیجنا تھا تو پھر نبی کریم کو ہی کیوں نہ بھیجا جاوے۔کیا مسیح" ناصری ہمارے نبی کریم صلی یتیم کی نسبت زیادہ اصلاح کرلے گا۔افسوس صد افسوس۔كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ اِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا