الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 58
۵۸ الحُجَّةُ البَالِغَةُ سَبَقَ الْقَوْلُ مِي أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ( ترمذی عن جابر ) یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ میں پہلے سے اصولی فیصلہ کر چکا ہوں کہ جو لوگ مرجاتے ہیں وہ پھر اس دنیا میں واپس نہیں آئیں گے۔لے اس حدیث کے بعد میرے خیال میں کسی مزید دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔مگر نب ہے کہ ہمارے بعض مولوی صاحبان نہ صرف مسیح ناصری کو فوت شدہ تسلیم کر کے پھر اس کے دوبارہ دنیا میں آنے کے متمنی ہیں بلکہ خود مسیح کی طرف حقیقی مردوں کا اسی دنیا میں زندہ کرنا منسوب کر رہے ہیں حالانکہ جن معنوں میں مسیح نے مُردے زندہ کئے ان معنوں میں تو سب نبی مُردے زندہ کرتے آئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ مردے زندہ کئے۔دراصل مشکل یہ ہوتی ہے کہ کم علمی کی وجہ سے لوگ ہر لفظ کے ظاہری معنوں پر جم جاتے ہیں حالانکہ بعض وقت ایک لفظ استعارہ اور مجاز کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔مثلاً قرآن شریف میں آیا ہے کہ :- مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى (سورۃ بنی اسرائیل رکوع ۸) د یعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہی ہوگا۔“ اس جگہ سب کو اتفاق ہے کہ یہاں اندھے سے روحانی اندھا مراد ہے نہ کہ جسمانی اندھا۔مگر معلوم نہیں مسیح کے معاملے میں مُردہ سے کیوں روحانی مُردہ مُراد نہیں لیا جاتا۔نبی کریم کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ے اس میں غور طلب امر یہ ہے کہ خدا نے خود کہا کہ کچھ مانگو اور پھر مانگنے والا شہید اور عالی مرتبہ صحابی تھا۔مگر چونکہ یہ سوال خدا کے صریح فیصلہ اور سنت کے خلاف تھا اس لئے نفی میں جواب ملا۔منہ