القصائد الاحمدیہ — Page ix
بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم قصيدة في مدح خاتم النبيين صلى الله علیه و سلم هذه القصيدة انيقة رشيقة مملوة من اللطائف الادبية و الفرائد العربية في یہ قصیدہ نہایت عمدہ اور لطیف ہے اور یہ ادبی لطائف اور عربی زبان کے بے مثل قیمتی موتیوں سے بھر پور ہے۔ یہ میرے پیارے آقا مدح سیدی و سید الثقلين خاتم النبيين محمد الذى وصفه الله في الكتاب المبين دوجہاں کے بادشاہ خاتم النبیین سید نا حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تعریف فرمائی ہے اللهم صل وسلم عليه الى يوم الدين و ليست هذه من قريحتى الجامدة اے اللہ ! قیامت تک ان پر درود بھیج اور سلامتی نازل فرما اور یہ قصیدہ میری جامد طبیعت اور بھی ہوئی ذہانت سے نہیں ہے اور وفطنتي الخامدة۔ وما كانت رويتى الناضبة ضليع هذا المضمار ومنبع تلك الاسرار نہ ہی میرے یہ خشک خیالات اس میدان کے شہسوار ہیں اور نہ ہی ان اسرار کا منبع ہیں بل كـلــمــــا قــلـــت فهو من ربّى الذى هو قرینی و مؤیدی ، بلکہ وہ سب باتیں جو میں نے اس سلسلہ میں کی ہیں وہ میرے اس رب کی طرف سے ہیں جو میر اساتھی اور میرا مؤید ہے ( وہ مجھے قوت بخشنے والا ۔ ہے ) الذي هو معي في كل حينى الذى يطعمني و يسقيني ، و اذا ضللت فهو يهديني جو ہر وقت میرے ساتھ ہے۔ وہی خدا ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے اور جب میں راستہ سے بھٹک جاتا ہوں تو میری رہنمائی فرما کر مجھے منزل مقصود تک پہنچاتا ہے