القصائد الاحمدیہ — Page 37
۳۷ وَ فِي مُهْجَتِي جَيْشُ وَاَزْعَمُ أَنَّهُ يُكَافِيُّ جَيْشَ الْقِدْرِ أَوْ هُوَ أَكْثَرُ اور میری جان میں ایک ابال ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ ہنڈیا کے ابال کے برابر ہے یا اس سے بھی بڑھ کر۔إِذَامَا تَكَلَّمُنَا وَبَارَى مُخَاصِمِي وَلَاحَتْ بَرَاهِينِي كَنَارٍ تَزْهَرُ اور جب ہم نے کلام کی اور میرے مخاصم نے مقابلہ کیا اور میرے دلائل روشن آگ کی طرح ظاہر ہو گئے۔فَأَوْجَسَ مَبْهُوْتًا وَأَيْقَنُتُ أَنَّى نُصِرْتُ وَ أَيَّدَنِي قَدِيرٌ مُّظَفَرُ تو وہ مبہوت ہو گیا اور میں نے یقین کر لیا کہ میں فتح یاب ہو گیا ہوں اور قدرت رکھنے والے اور فتح دینے والے (خدا) نے میری تائید کی ہے۔وَ أَدْرَكْتُهُ فِي حَمِئَةٍ فَدَعَوْتُهُ إِلَى مَشْرَبٍ صَافٍ وَمَاءٍ يُطَهِّرُ میں نے اسے دلدل میں پایا تو اسے دعوت دی ایک صاف گھاٹ کی طرف اور ایسے پانی کی طرف جو پاک کرتا ہے۔فَرَدَّ عَلَيَّ بِبَاطِلَاتٍ مِّنَ الْهَوَى وَوَاللَّهِ كَانَ كَذِي ضَلَالٍ يُزَوِّرُ تو اس نے (میری دعوت کو ) جھوٹی نفسانی خواہشات سے رڈ کر دیا اور اللہ کی قسم! وہ ایک گمراہ کی طرح مکر و فریب کر رہا تھا۔وَ قَالَ لِعِيسَى حِصَّةٌ فِي التَّالُهِ وَفِي هَذِهِ سِرٌ عَلَى الْعَقْل يَعْسِرُ اور اس نے کہا کہ عیسی کا ( بھی ) الوہیت میں ایک حصہ ہے اور اس بات میں ایک ایسا بھید ہے جسکا سمجھنا عقل کیلئے بھی مشکل ہوتا ہے۔وَ إِنَّ ابْنَ مَرْيَمَ مَظْهَرٌ لَابِ لَّهُ فَنَحْسِبُهُ رَبَّا كَمَا هُوَ يُظْهِرُ اور یقیناً ابن مریم اپنے باپ ( خدا) کا مظہر ہے اور ہم اسے رب جانتے ہیں جیسا کہ وہ (خود) اظہار کرتا ہے۔فَقُلْتُ لَهُ هذَا اخْتِلَاقُ وَفِرْيَةٌ وَمَا جَاءَ فِي الْإِنْجِيلِ مَا أَنْتَ تَذْكُرُ تو میں نے اسے کہہ دیا کہ یہ بناوٹ اور افتراء ہے۔انجیل میں وہ بات نہیں آئی جوتو بیان کرتا ہے۔وَ إِنَّ الهَكَ مَاتَ وَاللَّهُ سَرْمَدٌ قَدِيمٌ فَلَا يَفْنَى وَلَايَتَغَيَّرُ اور بیشک تیرا معبود مر چکا ہے اور اللہ ہمیشہ رہنے والا ہے قدیم ہے نہ اسے فنا ہے اور نہ ہی تغیر۔وَمَا لَا يُحَدُّ فَكَيْفَ حُدِدَ كَالْوَرى وَوَجْهُ الْمُهَيْمِن مِنْ مَّجَالِى مُطَهَّرُ اور جولا محدود ہے وہ مخلوق کی طرح کیسے محدود ہو گیا اور نگران خدا کی ذات ماڈی جلووں سے پاک ہے۔