القصائد الاحمدیہ — Page 35
۳۵ اَنَاجِيلُ عِيسَى قَدْعَفَتْ آثَارُهَا وَحَرَّفَهَا قَوْمٌ خَبِيتٌ مُعَيَّرُ عیسی کی انجیلوں کے نشانات مٹ گئے ہیں اور انہیں ایک خبیث اور عیب دار قوم نے محترف ومبدل کر دیا ہے۔نَبَذْتُمْ هِدَايَتَهُ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ وَهَذَا مِنَ الشَّيْطَان هَدَى أَخَرُ تم نے عیسی کی ہدایت کو تو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا ہے اور یہ دوسرامد ہب شیطان کی طرف سے ہے۔أَقَمْتُمْ جَلَالَ اللَّهِ فِى رُوحِ عَاجِزِ وَهَيْهَاتَ لَا وَاللَّهِ بَلْ هُوَ أَحْـقَــرُ تم نے اللہ کے جلال کو ایک عاجز کی روح میں قائم سمجھ رکھا ہے۔نہیں۔اللہ کی قسم ! یہ بات حقیقت سے دور ہے۔بلکہ وہ تو ایک حقیر انسان ہے۔فَقِيرٌ ضَعِيفٌ كَالْعِبَادِ وَمَيِّتٌ نَعَمُ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ عَبْدٌ مُعَزَّرُ وہ محتاج بندوں کی طرح کمزور اور مردہ ہے۔ہاں وہ خدا کے بندوں میں سے ایک معزز بندہ ہے۔وَ إِنْ شَاءَ رَبِّى يُبْدِ الْفَانَظِيرَةَ وَاَرْسَلَنِي رَبِّي مَثِيْلًا فَتَنْظُرُ اور اگر میرا رب چاہے اس جیسے ہزار پیدا کر سکتا ہے اور میرے رب نے مجھے (اس کا ) مثیل بنا کر بھیج دیا ہے۔سو تو دیکھ رہا ہے۔وَ قَدْ اصْطَفَانِي مِثْلَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فَطُوبَى لِمَنْ يَأْتِينِ صِدْقًا وَّ يُبْصِرُ اور اس نے مجھے عیسی بن مریم کی طرح برگزیدہ کیا ہے پس اس کے لئے خوشی ہے جو میرے پاس صدق سے آئے اور دیکھے۔اَنَبِيُّنَا مَيْتُ وَعِيسَى لَمْ يَمُتُ أَجَزْتُمْ حُدُودًا يَابَنِي الْغُولِ فَاحْذَرُوا کیا ہمارے بنی (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو وفات یافتہ ہیں اور عیسی نہیں مرا؟ اے چھلاوے کی اولا دا تم حدود سے تجاوز کر گئے ہو۔سوڈ رو۔تُوُقِيَ عِيسَى هَكَذَا قَالَ رَبُّنَا فَلَا تَهْلِكُوا مُتَجَلِدِينَ وَ فَكِّرُوا عیسی وفات پا گیا ہے۔اسی طرح ہمارے رب نے فرمایا ہے۔پس تم جرات دکھاتے ہوئے ہلاکت میں نہ پڑو اور سوچ سے کام لو۔اَ تَتَّخِذُ الْعَبْدَ الضَّعِيفَ مُهَيْمِنًا اَتَعْبُدُ مَيْتًا أَيُّهَا الْمُتَنَصِرُ کیا تو ایک ضعیف بندے کو خدائے نگران بنارہا ہے۔اے نصرانی! کیا تو ایک مُردے کی پوجا کر رہا ہے۔أَلَا إِنَّهُ عَبْدٌ ضَعِيفٌ كَمِثْلِنَا فَلَا تَتَّبِعُ يَا صَاحِ قَوْمًا خُسِرُوا سن لے کہ وہ ہماری طرح ہی ایک عاجز بندہ ہے۔سواے دوست! تو ان لوگوں کی پیروی نہ کر جو نقصان اٹھا چکے ہیں۔