القصائد الاحمدیہ — Page 34
۳۴ وَمَا كَانَ حَامِدَهُ بَصِيرٌ قَبْلَكُمْ وَلَكِنَّكُمْ عُمْيٌ فَكَيْفَ التَّبَصُّرُ : اور کوئی ( بھی ) بصیرت رکھنے والا اس سے پہلے اس کی تعریف کر نیوالا نہیں ہوا۔پر تم لوگ تو اندھے ہو تم کیسے دیکھ سکتے ہو؟ فَمَا تَابَ مِنْ هَذْيَانِهِ وَضَلَالِهِ وَكَانَ كَدَجَّالِ يُدَاجِي وَيَمْكُرُ پر وہ مخاصم اپنی بکواس اور گمراہی سے تائب نہ ہوا۔دجال کی طرح عداوت کو چھپاتا ہے اور مکر سے کام لیتا تھا۔وَ كَمْ مِّنْ خُرَافَاتٍ وَّ كَمُ مِّنْ مَّفَاسِدٍ تَقَوَّلَ حُبُنًا ذَلِكَ الْمُتَنَصِرُ اور بہت سی خرافات اور بہت سی مفسدانہ باتیں اس عیسائی نے خباثت سے گھڑ کر بیان کیں۔وَقَالَ لِي إِنَّ اللهَ خَلْقَ وَخَالِقٌ وَمَسِيحُنَا عَبْدٌ وَّ رَبُّ أَكْبَرُ اس نے مجھے کہا کہ الہ خلوق بھی ہے اور خالق بھی اور ہمارا مسیح بندہ بھی ہے اور رب اکبر بھی۔فَقُلْتُ لَهُ يَا تَارِكَ الْعَقْلِ وَالنُّهى الةٌ وَّ عَبْدٌ ذَالِكَ شَيْءٌ مُنْكَرُ سو میں نے اس سے کہا: اے عقل و دانش کو چھوڑ دینے والے !خدا بھی؟ بندہ بھی ؟ یہ تو او پری بات ہے۔إِذَا قَلَّ دِينُ الْمَرْءِ قَلَّ قِيَاسُهُ وَمَنْ يُؤْمِنَنُ يُرْشِدَهُ عَقَلٌ مُّطَهَّرُ جب انسان کے دین میں کمی آجائے اسکے انداز فکر میں بھی کمی آ جاتی ہے اور جو پورا مومن ہو پاک عقل اسکی رہنمائی کرتی ہے۔وَ إِنِّي أَرَى فِي خَبْطِ عَشْوَاءَ عُقُوْلَكُمْ تَقُولُونَ مَالَا يَفْهَمُ الْمُتَفَكِّرُ اور میں تمہاری عقلوں کو کم نظر اونٹنی کی طرح بھٹکتا ہوا پاتا ہوں تم ایسی باتیں کہتے ہو جنہیں عقلمند سمجھ نہیں سکتا۔وَ إِنِّي أَرَاكُمْ فِي ظَلَامٍ دَائِمٍ وَمَا فِي يَدَيْكُمْ مِنْ دَلِيلٍ يُنَوِّرُ میں تمہیں دائی ظلمت میں پاتا ہوں اور تمہارے ہاتھوں میں کوئی ( بھی ) روشنی دینے والی دلیل نہیں۔وَإِنْ هُوَ إِلَّا بِدْعَةٌ غَيْرُ ثَابِتٍ وَإِثْبَاتُهُ مُسْتَنْكَرٌ مُّتَعَدِّرُ یہ تو صرف ایک بدعت ہے جو ثابت نہیں اور اس کا ثابت کرنا ناممکن اور محال ہے۔اتَعْرِفُ فِي الصُّحُفِ الْقَدِيمَةِ مِثْلَهُ وَقَدْ جَاءَ هَدَى بَعْدَ هَدْيِ وَ مُنْذِرُ کیا تو پرانے صحیفوں میں اس کی مثل عقیدہ پاتا ہے؟ جبکہ ہدایت کے بعد ہدایت آتی رہی ہے اور ہوشیار کرنے والا بھی۔